قومی

Bihar Assembly Election 2025 Voting: بہار میں 121 نشستوں کے لیے  پہلے مرحلے کی ووٹنگ کا عمل شروع، سکیورٹی کے سخت انتظامات

بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ 18 اضلاع کی 121 اسمبلی نشستوں پر پر امن طریقہ سے رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی انتظامات کو مضبوط کر دیا گیا ہے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر مسلح فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ یہ مرحلہ نہ صرف ریاست کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا بلکہ این ڈی اے اور عظیم اتحاد، دونوں کے لیے ایک کسوٹی ثابت ہوگا۔ووٹنگ کے دوران کوئی ناخوش واقعہ پیش نہ آئے ، اس کے لیے ہر پولنگ بوتھ پر  انتظامیہ کی جانب سے مسلح فورسز  تعینات کی گئی ہیں۔

ان نشستوں پر اوسطاً ہر سیٹ پر تقریباً 11 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ مظفرپور اور کُڑھنی میں سب سے زیادہ 20-20 امیدوار اور بھورے، پربتہ اور الولی میں سب سے کم 5-5 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں کل 45,341 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں، کمیشن نے بتایا کہ تمام بوتھوں پر ویب کاسٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے جس کی  ہیڈکوارٹر سے لائیو مانیٹرنگ کی جا  رہی ہے۔

پہلے مرحلے کی سیاسی تصویر

اس بار پہلے مرحلے میں کئی ہائی پروفائل مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ 25 نشستوں پر بی جے پی اور آر جے ڈی کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ 12 نشستوں پر بی جے پی بمقابلہ کانگریس جبکہ 34 نشستوں پر جے ڈی یو اور آر جے ڈی آمنے سامنے ہیں۔ 11 نشستوں پر جے ڈی یو بمقابلہ کانگریس، 14 نشستوں پر ایل جے پی (رام) میدان میں ہے، جن میں سے 12 پر آر جے ڈی سے سیدھا مقابلہ ہے۔

بھاکپا (مالے) کا جے ڈی یو سے 7، بی جے پی سے 5 اور ایل جے پی (رام) سے 2 نشستوں پر ٹکراؤ ہے۔ وی آئی پی پارٹی 4 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے، جن میں 3 پر بی جے پی اور 1 پر جے ڈی یو سے مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ وہیں مارکسی اور کمیونسٹ پارٹیاں بھی کچھ نشستوں پر میدان میں ہیں، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ بن گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

5 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

6 hours ago