بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ 18 اضلاع کی 121 اسمبلی نشستوں پر پر امن طریقہ سے رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی انتظامات کو مضبوط کر دیا گیا ہے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر مسلح فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ یہ مرحلہ نہ صرف ریاست کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا بلکہ این ڈی اے اور عظیم اتحاد، دونوں کے لیے ایک کسوٹی ثابت ہوگا۔ووٹنگ کے دوران کوئی ناخوش واقعہ پیش نہ آئے ، اس کے لیے ہر پولنگ بوتھ پر انتظامیہ کی جانب سے مسلح فورسز تعینات کی گئی ہیں۔
ان نشستوں پر اوسطاً ہر سیٹ پر تقریباً 11 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ مظفرپور اور کُڑھنی میں سب سے زیادہ 20-20 امیدوار اور بھورے، پربتہ اور الولی میں سب سے کم 5-5 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں کل 45,341 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں، کمیشن نے بتایا کہ تمام بوتھوں پر ویب کاسٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے جس کی ہیڈکوارٹر سے لائیو مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
پہلے مرحلے کی سیاسی تصویر
اس بار پہلے مرحلے میں کئی ہائی پروفائل مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ 25 نشستوں پر بی جے پی اور آر جے ڈی کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ 12 نشستوں پر بی جے پی بمقابلہ کانگریس جبکہ 34 نشستوں پر جے ڈی یو اور آر جے ڈی آمنے سامنے ہیں۔ 11 نشستوں پر جے ڈی یو بمقابلہ کانگریس، 14 نشستوں پر ایل جے پی (رام) میدان میں ہے، جن میں سے 12 پر آر جے ڈی سے سیدھا مقابلہ ہے۔
بھاکپا (مالے) کا جے ڈی یو سے 7، بی جے پی سے 5 اور ایل جے پی (رام) سے 2 نشستوں پر ٹکراؤ ہے۔ وی آئی پی پارٹی 4 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے، جن میں 3 پر بی جے پی اور 1 پر جے ڈی یو سے مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ وہیں مارکسی اور کمیونسٹ پارٹیاں بھی کچھ نشستوں پر میدان میں ہیں، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ بن گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…