قومی

Vote theft a heartbreaking tragedy: راہل گاندھی نے ’’ووٹ چوری‘‘ کو جمہوریت کے لیے ’’دل توڑنے والا سانحہ‘‘ قرار دیا، دلت، پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے متاثر ہونے کا دعویٰ

نئی دہلی: کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بہار کے ضلع جموئی میں سینکڑوں ووٹروں کے نام بغیر اطلاع کے ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے ہیں ان میں بڑی تعداد دلت، پسماندہ اور اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی ہے اور یہ واقعہ ”جمہوریت کے لیے شرمناک اور دل توڑ دینے والا سانحہ“ ہے۔

ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے پر تنقید

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ دھرمپور گاؤں کے کئی افراد ضروری دستاویزات جمع کرواچکے تھے، اس کے باوجود ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی بغیر کسی اطلاع یا وجہ بتائے کی گئی، جو جمہوری حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ دلیپ یادو جو جسمانی معذوری کا شکار ہیں، ان کا پورے خاندان سمیت نام ”غیر حاضر“ ظاہر کرکے لسٹ سے نکال دیا گیا۔ اسی طرح سنتا دیوی، بنتی کمار اور قیام انصاری سمیت متعدد افراد کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔

سیاسی مفادات کے لیے ہیرا پھیری کا الزام

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ میں دانستہ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور ان لوگوں کے نام خارج کیے گئے جو مبینہ طور پر بی جے پی اور این ڈی اے کے خلاف ووٹ ڈال سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کئی پرانے ووٹروں کے نام جبراً ہٹا دیے گئے اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں کے نام شامل نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ عمل ووٹ کے بنیادی حق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔

یہ اصل ووٹ کی چوری ہے — راہل گاندھی

راہل گاندھی نے واضح کیا: ”یہی اصل ووٹ چوری ہے۔ لوگوں کی آواز، ان کے حقوق اور ان کی موجودگی کو مٹا دینا۔ اور یہ صرف دھرمپور کا واقعہ نہیں، یہ بہار کے ہر گاؤں کی کہانی بنتا جا رہا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جمہوری نظام پر براہِ راست حملہ ہے اور اس کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

نوجوانوں سے جمہوریت کے تحفظ کی اپیل

ایک پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے ہریانہ الیکشن کے حوالے سے بھی بڑے پیمانے پر ”ووٹ چوری“ کا الزام لگایا۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچ اور عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے آپ کے پاس جمہوریت کو بچانے کی طاقت ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہریانہ میں کانگریس کی واضح جیت کو شکست میں بدلنے کے لئے پوری منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

4 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

6 hours ago