قومی

Condolences on Khamenei’s death: ایرانی سفارت خانے پہنچے وکرم مسری، بھارت نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر کیا تعزیت کا اظہار

نئی دہلی: بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے نئی دہلی میں واقع ایران ایمبیسی کا دورہ کرکے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہندوستان میں ایران کے سفیر محمد فتالہی سے ملاقات کر کے بھارتی حکومت اور عوام کی جانب سے تعزیت پیش کی۔ ایرانی سفارت خانے نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سفارت خانے میں تعزیتی کتاب رکھی جائے گی جہاں لوگ آکر اپنی ہمدردی کا اظہار کر سکیں گے۔ وکرم مصری نے سفارت خانے پہنچ کر اس تعزیتی رجسٹر میں دستخط کیے اور بھارت کی جانب سے اظہار افسوس درج کیا۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی شہری، سفارت کار اور دیگر افراد 5 مارچ، 6 مارچ اور 9 مارچ کو آ کر تعزیتی کتاب میں اپنے پیغامات درج کر سکتے ہیں۔

حملے میں سپریم لیڈر کی ہلاکت

86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے مبینہ مشترکہ فوجی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ بعد ازاں امریکہ کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ ایک فوجی میٹنگ کے دوران حملے میں کئی اعلی عسکری عہدیدار بھی مارے گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حملے میں خامنہ ای کے قریبی اہل خانہ کو بھی نقصان پہنچا اور ان کی اہلیہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافہ

سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطی میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ تہران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جبکہ خلیجی ممالک میں بھی سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایران کی سرحد سے متصل آذربائیجان میں ڈرون حملوں کی اطلاعات کے بعد باکو حکومت نے ایرانی سفیر کو طلب کیا۔ بتایا گیا کہ حملوں میں ایک ہوائی اڈے اور ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر کے منصب پر فائز تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ایرانی سفارت خانے پر بھی بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے پہنچے۔

بھارت اس سے قبل بھی خطے میں کشیدگی کے دوران تمام فریقوں سے تحمل اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں نئی دہلی کی سفارتی سرگرمیاں خطے میں امن و استحکام کی حمایت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

6 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

6 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

7 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

7 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

8 hours ago