مشہور و معروف اداکار تھلاپتی وجئے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم (TVK) نے بھی وقف بل کے خلاف اپنی آواز بلند کر دی ہے۔ پارٹی نے جمعہ کے روز مرکزی حکومت سے اس وقف بل کو واپس لینے کی گزارش کی اور کہا کہ یہ مسلمانوں کے حقوق کو چھیننے والا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہے یہ بل واپس لیا جائے، اور ساتھ ہی مجوزہ حد بندی کے عمل کو بھی نافذ نہ کیا جائے۔
دراصل TVK نے پارٹی کی پہلی جنرل کونسل کی میٹنگ میں کچھ قرارداد پاس کیے ہیں۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وقف بل نے نئی شرائط تیار کر متعلقہ معاملوں میں مسلمانوں کی طاقتوں کو چھین لیا ہے۔ ان کے موجودہ حقوق کو بھی کم کیا ہے، اس لیے مرکزی حکومت کو اسے واپس لینا چاہیے۔ اس میٹنگ کی صدارت پارٹی کے بانی تھلاپتی وجئے نے ہی کی۔
اپنے خطاب میں، وجے نے تمل ناڈو کی حکمراں ڈی ایم کے کو خاندانی سیاست، خواتین اور بچوں کی حفاظت، لا اینڈ آرڈر اور بی جے پی زیرقیادت مرکز بشمول حد بندی اور 3 زبانوں کی پالیسی کے نفاذ پر نشانہ بنایا۔ وجے نے خاندانی سیاست پر ڈی ایم کی تنقید کی۔ انہوں نے کہا اسٹالن اکثر مرکز میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کو “فاشسٹ” قرار دیتے تھے لیکن ڈی ایم کے حکومت بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ مجوزہ حد بندی پر وجئے کی پارٹی نے ’اطلاع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمالی ریاستوں کے لیے سیٹوں کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی اور تمل ناڈو سمیت جنوبی ریاستوں کے لیے یہ تعداد گھٹ جائے گی۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ تمل ناڈو کے لوگ اسے مرکزی حکومت کی خاندانی منصوبہ بندی پر ٹھیک طرح عمل کرنے کی سزا مانتے ہیں۔ پارٹی نے مرکز سے نئی حد بندی کے اقدام سے بھی پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…