قومی

Jantar Mantar Protest Junaid: جنتر منتر پر مظاہرین کو کھانا فراہم کرنے والے رضاکار محمد جنید کے اہل خانہ کی مبینہ حراست پر سی جے پی کا یوپی پولیس پر الزام

نئی دہلی : جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کو کھانا اور پینے کا پانی فراہم کرنے والے رضاکار محمد جنید کے اہل خانہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اتر پردیش پولیس نے محمد جنید کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے والد اور کم عمر بھائی کو حراست میں لے لیا، جب کہ میرٹھ میں ان کی بہن کے سسر اور دیور کو بھی مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ان دعوؤں کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اتر پردیش پولیس پر تنقید کی ہے۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ “جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے یوپی پولیس اپنا وقت ہمارے رضاکار محمد جنید کو ہراساں کرنے میں ضائع کر رہی ہے، جو صرف جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے لوگوں کو کھانا اور پانی فراہم کر رہے ہیں۔ اب ان کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”

سی جے پی نے مزید کہا کہ پارٹی کی ٹیم محمد جنید کے مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ پارٹی کے مطابق اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ حکومت کا رویہ اب حیران کن نہیں رہا، تاہم وہ اس طرح کی کارروائیوں سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پولیس کی ہر مبینہ غیر قانونی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔محمد جنید نے بھی پولیس کارروائی پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام کے وقت پولیس ان کے گھر پہنچی اور ان کے والد کو اپنے ساتھ لے گئی۔ ان کے مطابق میرٹھ میں مقیم ان کی بہن کے گھر بھی پولیس نے کارروائی کی اور ان کے سسر اور دیور کو حراست میں لیا۔ جنید نے دعویٰ کیا کہ ان کے اہل خانہ کی پاس بکیں اور آدھار کارڈ بھی ضبط کر لیے گئے اور پولیس نے پیغام دیا کہ اگر محمد جنید خود پیش ہو جائیں تو ان کے اہل خانہ کو چھوڑ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مجرمانہ معاملے میں ملوث نہیں ہیں اور ان کی واحد “غلطی” یہ ہے کہ وہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے انہیں کھانا اور پانی فراہم کر رہے ہیں۔محمد جنید کے مطابق وہ 20 جون سے جاری احتجاج کے پہلے دن سے مظاہرین کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلا جائے گا تو ملک کا مستقبل بھی متاثر ہوگا۔ دریں اثنا، جے این یو کے طلبہ رہنما دانش علی نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ اتر پردیش پولیس نے محمد جنید کے گھر اور ان کی بہن کے گھر پر چھاپے مارے اور اہل خانہ کو حراست میں لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت محمد جنید کے خاندان کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس مبینہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اتر پردیش پولیس اور ریاستی حکومت پر سوالات اٹھائے۔ تاہم، ان الزامات پر اتر پردیش پولیس یا ریاستی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 minutes ago

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

1 hour ago

Sanjay Mishra Autobiography: ’میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں، پھر بھی لکھوں گا…‘ نیشنل ایوارڈ یافتہ سنجے مشرا لا رہے ہیں اپنی خودنوشت

’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…

2 hours ago