قومی

Bank Fraud Case: لکھنؤ میں 64 کروڑ سے زائد کا غبن، سی بی آئی کی دہلی، غازی آباد اور کانپور میں تیز چھاپہ مار کارروائی

لکھنؤ: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بینک آف انڈیا کی صدر شاخ سے جڑے ایک بڑے مالی گھوٹالے نے ہلچل مچا دی ہے۔ الزام ہے کہ اتر پردیش فاریسٹ کارپوریشن کے نام پر جعلی دستاویزات کے ذریعے بچت کھاتہ کھول کر 64 کروڑ 82 لاکھ روپے کا غبن کیا گیا۔ اس معاملے میں بینک برانچ مینیجر کی شکایت پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے مقدمہ درج کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔

شکایت پر سی بی آئی کی کارروائی؟
سی بی آئی کے مطابق، بینک آف انڈیا صدر شاخ کے برانچ مینیجر شیر سنگھ کشواہا نے شکایت درج کرائی تھی کہ فاریسٹ کارپوریشن کے نام سے کھولا گیا کھاتہ مشکوک سرگرمیوں میں استعمال ہوا ہے۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا کہ ملزمان انیس عرف منیش اور دیپک سنجیو سوورنا نے خود کو کارپوریشن کا افسر ظاہر کرتے ہوئے جعلی کاغذات کے ذریعے کھاتہ کھلوایا۔ شکایت کے بعد سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کی اور ہفتہ کے روز دہلی، غازی آباد اور کانپور میں واقع ملزمان کے ٹھکانوں پر بیک وقت چھاپے مارے۔

غبن کیسے ہوا؟
بینک کی اندرونی جانچ میں انکشاف ہوا کہ دسمبر 2025 میں دیپک سنجیو سوورنا نے خود کو یوپی فاریسٹ کارپوریشن کا افسر بتاتے ہوئے بینک حکام سے رابطہ کیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کارپوریشن بڑی رقم فکسڈ ڈپازٹ میں لگانا چاہتی ہے۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے اس نے جعلی بورڈ سرٹیفکیٹ، کے وائی سی دستاویزات، پین کارڈ اور جی ایس ٹی کاغذات بھی جمع کرائے، جنہیں بظاہر درست مان لیا گیا۔

پیسے کا کھیل
یکم جنوری کو فاریسٹ کارپوریشن کے نام سے اس کھاتے میں 64 کروڑ 82 لاکھ روپے جمع کیے گئے اور اسے فکسڈ ڈپازٹ میں منتقل کرنے کی ای میل بھیجی گئی۔ تاہم، اگلے ہی دن دیپک نے ایک جعلی خط پیش کیا، جس میں صرف 6 کروڑ 82 لاکھ روپے ایف ڈی کرنے اور باقی 58 کروڑ روپے بچت کھاتے میں منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بینک حکام نے اس خط کی بنیاد پر رقم ٹرانسفر کر دی، جس کے بعد غبن کا انکشاف ہوا۔

معاملے کی جانچ تیز
13 جنوری کو یوپی فاریسٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اروند سنگھ نے اس معاملے میں باضابطہ شکایت درج کرائی۔ جانچ میں واضح ہوا کہ انیس اور دیپک نہ تو بینک کے ملازم ہیں اور نہ ہی فاریسٹ کارپوریشن سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ سی بی آئی کو شبہ ہے کہ یہ دونوں کسی بڑے فراڈ نیٹ ورک کا حصہ ہو سکتے ہیں اور اس زاویے سے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

لکھنؤ میں کرایہ دار کی شناخت کی مہم
اسی دوران لکھنؤ میں انتظامیہ نے ”آپریشن پہچان“ کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت تمام مکان مالکان کو اپنے کرایہ داروں کی رجسٹریشن اور پولیس ویری فکیشن لازمی کرانا ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مالی جرائم سمیت دیگر مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Amit Shah pays tribute to Sardar Vallabhbhai Patel: آزادی کے بعد صرف 1,218 دن میں سردار پٹیل نے وہ کر دکھایا جو سب کو ناممکن لگتا تھا: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سردار پٹیل نے ہندوستان کے جغرافیائی، سیاسی…

4 hours ago