نئی دہلی :امریکی عدالت کی جانب سے بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف جاری فوجداری مقدمے میں محکمہ انصاف (DoJ) سے مزید وضاحت طلب کیے جانے کے باوجود قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کے دوبارہ پوری شدت سے آگے بڑھنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ امریکہ کے سینئر وکیل کرس مین کے مطابق جج کا حالیہ حکم ایک معمول کی قانونی کارروائی ہے اور اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ مقدمہ دوبارہ فعال ہونے جا رہا ہے۔
جج نے محکمہ انصاف سے کیا وضاحت مانگی؟
#WATCH | Naxos, Greece | On being asked if US District Judge Nicholas Garaufis can refuse DOJ’s dismissal of charges against Gautam Adani and Sagar Adani, US Lawyer Chris Man says, “It’s unclear. The rule seems to allow for that, but it’s never happened in practice. As a… pic.twitter.com/8MC2UCufWV
— ANI (@ANI) June 28, 2026
بروکلین کی امریکی ضلعی عدالت کے جج نکولس گاروفس نے محکمہ انصاف سے کہا ہے کہ وہ 18 مئی کو دائر کی گئی اس درخواست پر تفصیلی وجوہات پیش کرے، جس میں گوتم اڈانی اور دیگر ملزمان کے خلاف فوجداری الزامات واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ابتدائی درخواست میں مناسب قانونی بنیادیں بیان نہیں کی گئیں۔ محکمہ انصاف کو 13 جولائی تک اپنا تفصیلی جواب جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔
معمول کی قانونی کارروائی ہے
سینئر امریکی وکیل کرس مین نے کہا کہ امریکی قانون کے Rule 48(a) کے تحت کسی بھی فوجداری مقدمے کو واپس لینے کے لیے عدالت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں جج کی جانب سے اضافی معلومات طلب کرنا ایک عام قانونی عمل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید امریکی عدالتی تاریخ میں کوئی نمایاں مثال موجود نہیں، جس میں عدالت نے محکمہ انصاف کی خواہش کے خلاف کسی فوجداری مقدمے کو جاری رکھنے پر مجبور کیا ہو۔
چند ہفتوں میں مقدمہ ختم ہونے کا امکان
کرس مین کے مطابق محکمہ انصاف مقررہ مدت سے پہلے بھی اپنا تفصیلی جواب داخل کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امکان ہے عدالت بغیر کسی سماعت کے آئندہ چند ہفتوں میں مقدمہ خارج کرنے کی اجازت دے دے۔ ان کے مطابق عدالت صرف یہ اطمینان کرنا چاہتی ہے کہ مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ نیک نیتی اور قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔
ایرک ایڈمز کیس کی مثال
قانونی ماہرین نے نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز کے بدعنوانی کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی محکمہ انصاف نے الزامات واپس لینے کی درخواست دی تھی۔ اس وقت عدالت نے تفصیلی وضاحت اور سماعت کے بعد مقدمہ واپس لینے کی اجازت دے دی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت حکومتی فیصلے کا جائزہ تو لے سکتی ہے، لیکن اسے تبدیل کرنے کے اختیارات انتہائی محدود ہوتے ہیں۔
اڈانی کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے اہم دلائل
24 جون 2026 کو عدالت میں جمع کرائے گئے خط میں گوتم اڈانی کی قانونی ٹیم نے کئی اہم نکات اٹھائے:امریکی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا: تمام مالی لین دین امریکہ سے باہر ہوئے، بانڈ دستاویزات بھی بیرونِ امریکہ تیار اور منظور کی گئیں اور ان پر انگریزی قانون لاگو تھا، اس لیے یہ معاملہ امریکی سیکیورٹیز قوانین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔رشوت ستانی کے الزامات پر اعتراض: سابق بھارتی ریگولیٹری افسر کی ماہرانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مبینہ ادائیگیاں دراصل ریاستی بجلی کمپنیوں کو شمسی توانائی کے معاہدوں کے لیے دی جانے والی جائز تجارتی رعایتیں تھیں، نہ کہ رشوت۔500 صفحات سے زائد قانونی مواد جمع کرایا: فروری سے اپریل 2026 کے دوران اڈانی گروپ نے محکمہ انصاف کو تقریباً 500 صفحات پر مشتمل قانونی دستاویزات، ماہرین کی رپورٹس اور قانونی دلائل فراہم کیے، جن میں ہارورڈ لا اسکول کے ایک پروفیسر اور سابق SEC کمشنر کی آراء بھی شامل تھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…