نئی دہلی :امریکہ کی یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ برائے ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف نیو یارک نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے وکلاء کی جانب سے دائر درخواست کو قبول کر لیا ہے، جس میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مقدمے کو خارج کرنے کے لیے پری موشن کانفرنس کی اپیل کی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مدعا علیہان کی جانب سے دائر خط موصول ہو چکا ہے اور درخواست منظور کرتے ہوئے فریقین کو کانفرنس کے شیڈول کے لیے عدالت سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
منگل کو اڈانی کے وکلاء نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 30 اپریل تک ایس ای سی کی شکایت کو خارج کرنے کی درخواست دائر کریں گے۔ اسی سلسلے میں ایسٹرن ڈسٹرکٹ نیو یارک کے جج کو خط بھیج کر بتایا گیا کہ مدعا علیہان پری موشن کانفرنس میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ درخواست میں کیس خارج کرنے کے کئی قانونی نکات بھی پیش کیے گئے ہیں۔وکلاء کے مطابق عدالت کے پاس مدعا علیہان پر ذاتی دائرہ اختیار موجود نہیں ہے اور ایس ای سی کے الزامات امریکی حدود سے باہر کے معاملات سے متعلق ہیں۔ مزید کہا گیا کہ مدعا علیہان کے مبینہ بیانات اتنے عمومی اور مبہم ہیں کہ کسی سرمایہ کار کے لیے ان پر انحصار کرنا ممکن نہیں، اس لیے انہیں قانونی طور پر قابلِ کارروائی نہیں بنایا جا سکتا۔
گوتم اڈانی کی نمائندگی سلیوان اینڈ کرومویل ایل ایل پی کر رہی ہے، جب کہ ساگر اڈانی کی جانب سے نکسن پیبڈی ایل ایل پی اور ہیکر فنک ایل ایل پی وکالت کر رہے ہیں۔وکلاء نے بتایا کہ ستمبر 2021 میں اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ نے 750 ملین ڈالر کے بانڈز SEC Rule 144A اور SEC Regulation S کے تحت جاری کیے تھے، جو رجسٹریشن سے مستثنیٰ نجی فروخت کے اصول ہیں۔ یہ بانڈز امریکہ سے باہر غیر امریکی انڈر رائٹرز کو فروخت کیے گئے تھے، جنہوں نے بعد میں انہیں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل خریداروں کو دوبارہ فروخت کیا۔
مدعا علیہان کے مطابق ایس ای سی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ یہ لین دین امریکی قوانین کے دائرے میں آتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ مقدمے میں شامل تمام فریق بھارتی ہیں، سیکیورٹیز امریکی اسٹاک ایکسچینجز پر درج نہیں تھیں اور مبینہ سرگرمیاں مکمل طور پر بھارت میں ہوئیں۔ایس ای سی نے الزام لگایا تھا کہ 2020 سے 2024 کے درمیان 250 ملین ڈالر سے زائد رشوت اسکیم کے ذریعے بھارت میں سولر انرجی معاہدے حاصل کیے گئے۔ تاہم اڈانی کے وکلاء نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شکایت میں کسی بھی قابلِ عمل قانونی خلاف ورزی کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔عدالت کی جانب سے پری موشن کانفرنس کی اجازت کو کیس میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد آنے والے دنوں میں مقدمے کے مستقبل پر فیصلہ کن پیش رفت متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران…
بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔…
بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے تقریباً 3 سال کے کامیاب دور…
فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے…
روس میں 18 سے 20 ستمبر تک اسٹیٹ ڈوما یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے…
نئی دہلی میں منعقدہ اے جی نورانی میموریل لیکچر میں حامد انصاری نے اے جی…