نئی دہلی :امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سیزفائر اعلان کے بعد ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ایرانی افواج کو فائر بندی کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ عارضی وقفہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دشمن کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت ہوئی تو ایران بھرپور جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) پر نشر کیے گئے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا، “یہ جنگ کا اختتام نہیں ہے، تاہم تمام فوجی شاخوں کو سپریم لیڈر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فائر بندی پر عمل کرنا ہوگا۔” اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی، تاہم ایران نے اپنی دفاعی تیاری برقرار رکھنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل آف ایران نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ سیزفائر کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کونسل نے کہا کہ ایرانی افواج مکمل چوکس ہیں اور دشمن کی کسی بھی غلطی پر پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران پر بمباری اور فوجی کارروائی کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دو طرفہ سیزفائر ہوگا جس کے دوران مذاکرات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد انہوں نے ایران کی جانب بھیجی جانے والی فوجی طاقت کو روکنے کا فیصلہ کیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے 10 نکاتی تجویز پیش کی ہے، جسے مذاکرات کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیشتر متنازع معاملات پر امریکہ اور ایران کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔ایران کی جانب سے پیش کی گئی اہم شرائط میں جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھنے، یورینیم افزودگی کو تسلیم کرنے، تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کرنے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں منسوخ کرنے، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ کی قراردادیں ختم کرنے، ایران کو معاوضہ دینے، خطے سے امریکی افواج کی واپسی اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ کے خاتمے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ایران کے اس سخت مؤقف سے واضح ہے کہ سیزفائر کے باوجود خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور آئندہ دنوں میں مذاکرات کے نتائج پر ہی صورتحال کا دارومدار ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…