نئی دہلی :اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی نے امریکی عدالت سے اپیل کی ہے کہ امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے جانب سے دائر کردہ سیکیورٹیز فراڈ کیس کو خارج کر دیا جائے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ امریکی دائرہ اختیار سے باہر ہے اور امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ کی جانب سے 2021 میں کی گئی بانڈ فروخت کے حوالے سے ایس ای سی کے دعووں میں کئی قانونی خامیاں موجود ہیں۔ اڈانی کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس اس کیس کی سماعت کے لیے ذاتی دائرہ اختیار نہیں ہے کیونکہ نہ تو اڈانی کا امریکہ سے کوئی مضبوط تعلق رہا اور نہ ہی بانڈ جاری کرنے کے عمل میں ان کی براہ راست شمولیت ثابت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ایس ای سی نے نومبر 2024 میں امریکی سیکورٹیز قوانین کے تحت مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اڈانی گروپ نے بھارت میں سرکاری افسران سے متعلق مبینہ رشوت خوری کے معاملے کی معلومات سرمایہ کاروں سے چھپائیں۔ تاہم اڈانی گروپ نے ان الزامات کو مسلسل مسترد کیا ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ 750 ملین ڈالر کی بانڈ فروخت امریکہ سے باہر “رول 144 اے” اور “ریگولیشن ایس” کے تحت کی گئی تھی۔ اس دوران سیکیورٹیز غیر امریکی انڈر رائٹرز کو فروخت کی گئیں، جنہیں بعد میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل خریداروں کو دوبارہ فروخت کیا گیا۔ اس بنیاد پر وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ امریکی قوانین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
گوتم اڈانی کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایس ای سی کی شکایت میں ایسا کوئی الزام نہیں لگایا گیا کہ گوتم اڈانی نے بانڈ جاری کرنے کی منظوری دی یا کسی اہم اجلاس میں شرکت کی ہو۔ اس کے علاوہ ایس ای سی یہ بھی ثابت نہیں کر سکا کہ امریکی سرمایہ کاروں سے متعلق کسی سرگرمی میں اڈانی کی براہ راست شمولیت رہی ہو۔درخواست میں امریکی سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایس ای سی امریکہ میں ہونے والے کسی لین دین کا واضح ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، جو مقدمے کی سماعت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ کسی سرمایہ کار کو مالی نقصان پہنچنے کا بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
گوتم اڈانی کے وکلاء نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ بانڈ 2024 میں میچور ہو چکے ہیں اور ان کی مکمل ادائیگی سود سمیت کی جا چکی ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ مبینہ رشوت خوری کے الزامات کے حوالے سے بھی کوئی قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ انہی بنیادوں پر عدالت سے مقدمہ مکمل طور پر خارج کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نورا فتحی نے اپنے ابتدائی کیریئر کے دنوں کا دلچسپ راز کیا فاش، بتایا کہ…
بگ باس کے حالیہ ایپی سوڈ میں سلمان خان کو سینے کے قریب درد سے…
ایشین گیمز 2026 میں بھارت کا پہلا تمغہ سُچیکا تاریال نے یقینی بنایا۔ 36 سالہ…
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران…
بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔…
بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے تقریباً 3 سال کے کامیاب دور…