اسپورٹس

Ajit Agarkar Resignation BCCI Selection: ٹرافیوں کی بھرمار کے باوجود بی سی سی آئی سے کنارہ، اگرکر کے استعفے کی 3 بڑی وجوہات

بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے تقریباً 3 سال گزارنے والے اجیت اگرکر نے اپنے عہدے کی مدت میں توسیع نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے دور میں ون ڈے عالمی کپ 2023 کا فائنل، ایشیائی کھیلوں 2022 میں طلائی تمغہ، ٹی20 عالمی کپ 2024 اور 2026 کی کامیابی، چیمپئنز ٹرافی اور 2 ایشیا کپ جیسی بڑی کامیابیاں شامل رہیں۔اس کے باوجود اگرکر نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور بی سی سی آئی نے بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ اتنی کامیابیوں کے باوجود اگرکر اور بورڈ کے درمیان فاصلے کیوں بڑھے؟

مدتِ کار کے سلسلے میں قیاس آرائیاں

گزشتہ کئی ماہ سے اجیت اگرکر کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ سال کے آغاز میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ 2027 کے عالمی کپ تک چیف سلیکٹر کے عہدے پر برقرار رہیں گے، لیکن حالات اچانک بدل گئے۔ 18 ستمبر کو ہونے والی بی سی سی آئی کی سالانہ میٹنگ کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ 3 اکتوبر کو ان کی مدت مکمل ہوتے ہی وہ عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔

روہت شرما کے انتخاب پر تنازع

رپورٹس کے مطابق، اگرکر نے خود ہی مدت میں توسیع نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انگلینڈ دورے کے لیے روہت شرما کے انتخاب کو لے کر ہونے والے تنازع کو اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ کمیٹی میں پہلے ہی روہت کے مستقبل پر بات ہو چکی تھی اور پرگیان اوجھا کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ روہت سے بات کریں۔ تاہم سابق کپتان اس فیصلے سے ناراض ہو گئے اور انہوں نے بورڈ کے عہدیداروں کے سامنے اپنی مخالفت ظاہر کی۔ اس کے بعد جب روہت کے ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیاں سامنے آئیں تو بی سی سی آئی کے سکریٹری نے بیان دے کر واضح کیا کہ روہت کی جگہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

وی وی ایس لکشمن سے بھی اختلافات؟

اجیت اگرکر اور سینٹر آف ایکسیلنس کے سربراہ وی وی ایس لکشمن کے درمیان بھی کئی معاملات پر رائے مختلف رہی۔ ایشیائی کھیلوں 2026 کے لیے اگرکر دوسری ٹیم بھیجنے کے حق میں تھے، جبکہ لکشمن کی رائے تھی کہ اس مقابلے میں مرکزی ٹیم کو بھیجا جائے۔ اسی طرح انڈیا اے کے پروگراموں کی منصوبہ بندی اور شیڈول کو لے کر بھی دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔

کھلاڑیوں کی انجری پر بڑھا تنازع

سب سے اہم اختلاف کھلاڑیوں کی فٹنس اور بار بار ہونے والی انجریز سے متلعق رہا۔ اگرکر اور ٹیم مینجمنٹ نے کئی مرتبہ سوال اٹھایا کہ کھلاڑیوں کی بحالی یعنی ری ہیبلیٹیشن مناسب طریقے سے کیوں نہیں ہو رہی۔ کھلاڑیوں کی ری ہیبلیٹیشن کی ذمہ داری سینٹر آف ایکسیلنس کی ہوتی ہے۔ اس معاملے نے اگرکر اور سینٹر آف ایکسیلنس کے درمیان عدم اعتماد کو مزید بڑھا دیا۔

جائزہ اجلاس سے بھی رہے دور

کچھ عرصہ قبل بی سی سی آئی اور بھارتی ٹیم کے جائزہ اجلاس میں اگرکر کی غیر موجودگی نے بھی اس بات کے اشارے دیے کہ وہ آئندہ اس ذمہ داری کا حصہ نہیں رہیں گے۔مسلسل تنازعات اور مختلف معاملات پر اختلافات کے درمیان اجیت اگرکر نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے دور میں ٹیم نے کئی بڑی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن ان کے دور کے آخری مرحلے میں سلیکشن، فٹنس اور ٹیم مینجمنٹ سے متعلق اختلافات نمایاں رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Suchika Tariyal: کون ہیں بھارت کی ایم ایم اے کوئین سُچیکا تاریال؟ جنہوں نے ایشیائی کھیلوں میں پکا کیا ملک کا پہلا تمغہ

ایشین گیمز 2026 میں بھارت کا پہلا تمغہ سُچیکا تاریال نے یقینی بنایا۔ 36 سالہ…

27 minutes ago

Imran Khan’s Sister Arrested: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان گرفتار، 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل کارروائی

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران…

36 minutes ago

Global Warming: کہیں خشک سالی تو کہیں سیلاب! فضا میں بڑھتی CO2 سے زمین کا دم گھٹنے لگا، سائنسدانوں نے کیا خبردار

فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے…

2 hours ago