قومی

Hamid Ansari Statement: حامد انصاری کے بیان پر سیاسی ہنگامہ، نہرو کے پرانے بیان کے حوالے سے ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت پر نئی بحث

نئی دہلی: سابق نائب صدر حامد انصاری کے ایک بیان کے بعد سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ حامد انصاری نے اے جی نورانی میموریل لیکچر کے دوران سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا۔ انہوں نے یہ حوالہ معروف آئینی ماہر اور مصنف اے جی نورانی کی 2019 میں شائع ہونے والی کتاب ’The RSS: A Menace to India‘ کے حوالے سے دیا۔ ان کے بیان کے بعد بی جے پی کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے اور شہری قوم پرستی، ثقافتی قوم پرستی اور فرقہ واریت کے موضوع پر بحث شروع ہوگئی۔ نئی دہلی میں منعقدہ اے جی نورانی میموریل لیکچر میں حامد انصاری نے اے جی نورانی کی تحریروں اور قوم پرستی سے متعلق ان کے خیالات پر گفتگو کی۔ اسی دوران انہوں نے نورانی کی کتاب کے تعارف میں درج جواہر لال نہرو کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا۔ انصاری کے مطابق نورانی نے اپنی کتاب میں وزارت خارجہ کے افسران کی ایک میٹنگ کے دوران نہرو کے کہے گئے الفاظ کا ذکر کیا تھا، جنہیں اس وقت کے خارجہ سکریٹری جگت سنگھ گنڈیویا کے ریکارڈ سے جوڑا گیا تھا۔ انصاری نے نورانی کی کتاب کے حوالے سے نہرو کا یہ بیان پیش کیا کہ بھارت کے لیے خطرہ کمیونزم نہیں بلکہ ’ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت‘ ہے۔

شہری قوم پرستی اور ثقافتی قوم پرستی پر بھی بات

اپنی تقریر میں حامد انصاری نے شہری قوم پرستی اور ثقافتی قوم پرستی کے درمیان فرق کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایسے رجحانات سامنے آئے ہیں جو شہری قوم پرستی کے قائم شدہ تصور کو چیلنج کرتے ہیں اور اس کی جگہ ثقافتی قوم پرستی کو پیش کرتے ہیں۔ انصاری کے مطابق ایسی سوچ انتخابی اکثریت کو مذہبی اکثریت کے طور پر پیش کرنے اور سیاسی طاقت پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

بی جے پی کی جانب سے اعتراض

حامد انصاری کے بیان کے بعد بی جے پی کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ پارٹی اور اس سے وابستہ لیڈروں نے ان کے تبصرے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے کانگریس کی سیاست سے جوڑ کر سوال اٹھائے۔ اس معاملے پر ہندو تنظیموں کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی ہے۔ وی ایچ پی کے ترجمان نے انصاری کے بیان کی مخالفت کی اور کہا کہ ایسے تبصروں پر اعتراض ہے۔ یہ بیانات ان تنظیموں اور لیڈروں کے اپنے سیاسی مؤقف ہیں۔

پرانے تاریخی حوالہ نے چھیڑ دی نئی سیاسی بحث

اس پورے معاملے کا مرکز حامد انصاری کی جانب سے پیش کیا گیا جواہر لال نہرو کا پرانا حوالہ اور اسے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں پیش کرنا ہے۔ انصاری نے اے جی نورانی کی کتاب کے حوالے سے شہری قوم پرستی، ثقافتی قوم پرستی اور مذہبی شناخت سے متعلق سوالات اٹھائے، جبکہ ان کے ناقدین نے اس بیان اور اس کے سیاسی مفہوم پر اعتراض کیا ہے۔ یوں ایک تاریخی بیان کا حوالہ موجودہ سیاسی بحث کا حصہ بن گیا ہے اور مختلف سیاسی و سماجی حلقے اس کی اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Global Warming: کہیں خشک سالی تو کہیں سیلاب! فضا میں بڑھتی CO2 سے زمین کا دم گھٹنے لگا، سائنسدانوں نے کیا خبردار

فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے…

20 minutes ago

UK Telford News: ٹیل فورڈ میں سکھ بس ڈرائیور پر حملہ، ملزم نے بس پر کیا قبضہ، 10 منٹ میں گرفتار

برطانیہ کے ٹیل فورڈ میں ایک شخص نے سکھ بس ڈرائیور پر حملہ کرنے کے…

1 hour ago

Uttarakhand Glacier Melting Crisis: ٹائم بم پر بیٹھا ہے اتراکھنڈ: 34 برس میں 25 کلومیٹر سے زیادہ برف غائب، تیزی سے سکڑ رہے ہیں ہمالیائی گلیشیئر

اتراکھنڈ میں ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی تشویش ناک تصویر سامنے آئی ہے۔…

2 hours ago