قومی

US Congress UFO: امریکہ کے پاس ایلین ہے،حکومت چھپارہی ہے جانکاری،یو ایف او کی سماعت کے دوران سابق عہدیدار کا بڑا دعوی

امریکہ میں یو ایف او دیکھنے سے متعلق واقعات کئی بار منظر عام پر آ چکے ہیں۔ کبھی عام لوگوں نے کسی نامعلوم چیز کو آسمان پر اڑتے دیکھا ہے تو کبھی ایئرفورس کے پائلٹ نے۔ یو ایف او کو لوگ عام طور پر ایلین  کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ امریکہ میں اس سے متعلق ایک شعبہ بھی ہے۔ لیکن اب یہ مطالبہ  کیا جا رہا ہے  کہ حکومت کے پاس دستیاب معلومات میں مزید شفافیت لائی جائے۔ امریکی فوج کے تین ریٹائرڈ افسران نے یو ایف او کے واقعات پر ہاؤس کی سماعت میں گواہی دی۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ  یو ایف یو کا نظر آنا قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور حکومت ان کے بارے میں بہت رازداری برت رہی ہے۔

کانگریس کی ایک نگرانی ذیلی کمیٹی نے بدھ کو یو ایف او یعنی (فضا میں کسی نامعلوم شئے کا نظر آنا)  کے معاملہ پر سماعت کی۔ اس سماعت کے لیے دباؤ ڈالنے والے اراکین پارلیمنٹ نے حکومت سے کہا کہ وہ یو ایف او  کے بارے میں زیادہ شفافیت اختیار کرے۔ امریکی بحریہ کے سابق پائلٹ ریان گریوز نے کہا، ‘اگر یو ایف او ایلین ڈرون ہیں تو یہ  قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ کچھ اور ہے تو یہ سائنس کی بات ہے۔ کسی بھی صورت میں امریکی آسمانوں میں اڑتی ہوئی نامعلوم اشیاء پرواز کی حفاظت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

حکومت معلومات چھپا رہی ہے

ہوا میں اڑتی کسی بھی نامعلوم چیز کو حکومت UAP کہتی ہے۔ حکومت نے حالیہ برسوں میں دیکھے گئے UAPs پر رپورٹس جاری کی ہیں۔ حکومت ابھی تک کچھ سمجھ نہیں پائی۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ چیزوں کو غبارے یا پلاسٹک کے ساتھ ساتھ ڈرون، پرندے یا موسمی مظاہر بھی بتایا گیا ہے۔ ریٹائرڈ امریکی بحریہ کے کمانڈر ڈیوڈ فریور اور گریوز نے فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے UAPs کو دیکھنے کے بارے میں گواہی دی۔ ڈیوڈ گرش، ایک سابق ایئر فورس انٹیلی جنس افسر، نے الزام لگایا کہ حکومت نے UAP دیکھنے کے بارے میں اپنی تحقیق کو چھپایا۔ امریکہ ان UAPs کی ریورس انجینئرنگ کر رہا ہے۔ گرش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس نہ صرف UAPs ہیں بلکہ ان طیاروں سے مبینہ طور پر اجنبی باقیات بھی برآمد ہوئے ہیں۔ پینٹاگون نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

قومی سلامتی کے لیے خطرہ

سماعت کے دوران یہ پوچھے جانے پر کہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں ہیں، فریور نے 2004 میں اپنے مشاہدہ میں آنے والے ایک واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا، “ہم نے جس ٹیکنالوجی کا سامنا کیا وہ ہمارے پاس موجود کسی بھی ٹیکنالوجی سے کہیں بہتر تھی۔” امریکہ میں ٹینیسی سے ریپبلکن نمائندے ٹم برچیٹ نے کہا کہ ‘یہ حکومت کی شفافیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزی دکہا کہ ہماری سماعت کا مقصد کسی اجنبی یا اجنبی جہاز کو تلاش کرنا نہیں ہے جو ایک چھوٹے سے سبز آدمی کی طرح نظر آئے۔ ہم صرف حقائق کی طرف جانا چاہتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Amir Equbal

Recent Posts

World Rabies Day: عالمی یوم ریبیز، کتا کاٹ لے تو یہ غلطیاں ہرگز نہ کریں، فوراً اٹھائیں یہ قدم، ورنہ جا سکتی ہے جان

ضلع اسپتال کی اینٹی ریبیز ویکسین او پی ڈی کے انچارج ڈاکٹر موہت بنسل نے…

2 minutes ago

Waterspout Tomado: کبھی پانی کا بگولا دیکھا ہے؟ بہار میں نظر آیا امریکہ، کینیڈا والا حیران کن نظارہ، ویڈیو وائرل

سمستی پور: بہار کے سمستی پور ضلع کے محی الدین نگر میں ایک انتہائی نایاب…

3 minutes ago

Indian Languages ​​in the Digital World: ڈیجیٹل دنیا میں ہندوستانی زبانوں کے امکانات اور چیلنجز پر دو روزہ قومی سیمینار کا اختتام

سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی زبانوں کا…

2 hours ago