قومی

World Urdu Conference: وکست بھارت کی تعمیرمیں دیگر ہندوستانی زبانوں کے ساتھ اردو کا ہوگا غیر معمولی کردار: ڈاکٹر شمس اقبال

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعے 21 تا 23 فروری 2025 کو ’وکست بھارت کا وژن، اردو زبان کا مشن‘ کے زیر عنوان منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے سلسلے میں جمعرات کے روز انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے صحافیوں کو عالمی اردو کانفرنس کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ کونسل کی جانب سے ماضی میں بھی عالمی اردو کانفرنسیں ہوتی رہی ہیں، البتہ درمیان میں کورونا اور بعض دِیگر اسباب کی بنا پر یہ سلسلہ رک گیا تھا، اب تقریباً چھ سال کے وقفے سے ہم یہ کانفرنس کر رہے ہیں، جس کا ہم نے بالکل غیر روایتی انداز کا خاکہ بنایا ہے اور اردو کے ادبی مسائل کے ساتھ عصری و قومی ضروریات اور تقاضوں کو بھی اس کے تھیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 21 فروری کو شروع ہونے والی یہ کانفرنس عالمی یومِ مادری زبان کا جشن بھی ہے اور اس کا مرکزی موضوع حکومتِ ہند کے منصوبے’وکست بھارت@47’ پر مبنی ہے، جس میں پڑھے جانے والے مقالات اور مباحثوں کے ذریعے جہاں ہم موجودہ دور میں اردو تعلیم اور اردو زبان و ادب کے فروغ کی مختلف جہتوں پر غور و فکر کریں گے وہیں 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر و تشکیل میں اس ملک کی دیگر زبانوں کے ساتھ اردو کے متوقع کردار پر بھی صحت مند ڈسکورس ہوگا۔

شمس اقبال نے اس پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں سماج کے دوسرے طبقات کے ساتھ ادیبوں اور تخلیق کاروں کی شمولیت بھی اہم ہوتی ہے، ایسے میں ہمیں اجتماعی طورپر غور کرنا چاہیے کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں ہماری زبان کے ادیب و تخلیق کار کس طرح  اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

کونسل کے ڈائرکٹر نے کہا کہ تین دنوں تک چلنے والی اس کانفرنس میں افتتاحی و اختتامی پروگراموں کے علاوہ سات تکنیکی سیشنز ہوں گے، جن میں اردو ذریعۂ تعلیم، نئی نسل میں مختلف علوم کی ترویج، موجودہ تعلیمی نظام میں اردو کی صورت حال، اردو کے کاز کو آگے بڑھانے کے لیے انفوٹنمنٹ وسائل اور آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کے استعمال، اردوتخلیقات میں ہندوستانی ثقافت وسماجیات کی عکاسی اور بیرون ملک مقیم اردو آبادی کے ساتھ ہموار رابطے کی تشکیل جیسے موضوعات پر مقالات کی پیش کش اور مذاکرے ہوں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چوں کہ اردو زبان کا ایک دلکش اور گنگا جمنی ثقافتی پس منظر بھی ہے جس کی عکاسی مشاعروں، قوالی اور کلاسیکی رقص و موسیقی وغیرہ کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے کانفرنس کے تینوں دن ہم محبانِ اردو کی ذہنی تفریح کے لیے ثقافتی پروگراموں کا بھی اہتمام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اس کانفرنس میں جہاں ہندوستان کے تمام اردو علاقوں اور متوازن صنفی نمائندگی پر توجہ دی گئی ہے، وہیں کناڈا ،آذربائیجان ،ازبیکستان، مصر، نیپال، قطر، یو اے ای سے بھی متعدد اردو دانشوران آن لائن و آف لائن شرکت کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں اردو، ہندی و انگریزی کے 30 سے زائد اخباری نمائندگان ومدیران موجود تھے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر شمس اقبال نے عالمی اردو کانفرنس کے تعلق سے صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جوابات بھی دیے اور کہا کہ یہ کانفرنس اردو کی مجموعی ترقی کے ساتھ وکست بھارت کی تعمیر کا روڈ میپ تیار کرنے کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس۔

Dr. Khalid Raza Khan

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

4 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

4 hours ago