بھارت کے دارالحکومت دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، لودھی روڈ میں 26 نومبر کو ’بزمِ صحافت‘ کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو کا شاندار اور تاریخی انعقاد کیا گیا۔ اس کانکلیو کا افتتاح دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کیا۔ ریکھا گپتا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ آرٹ، کلچر اینڈ لینگوئجز کے وزیر کپل مشرا بطور مہمان اعزازی شامل ہوئے۔ اس سیشن کی صدارت بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اور ایڈیٹر ان چیف اپیندر رائے نے کی۔ سیاسی، ثقافتی و ادبی اعتبار سے یہ پروگرام نہایت اہم ثابت ہوا، جس میں ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں اردو زبان کے چاہنے والے، ادیب، اسکالرز، صحافی اور طلبہ شریک ہوئے۔
اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعرا و شاعرات نے شرکت کی اور اپنے دلکش و پُراثر کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ ہال میں بار بار تالیاں، تحسین کی صدائیں اور ’واہ واہ‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ ہر شاعر نے اپنے مخصوص اسلوب، لہجے اور موضوعات کے ذریعے محبت، انسانیت، سماجی ہم آہنگی اور موجودہ دور کے مسائل کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا۔ مشاعرے میں گنگا جمنی تہذیب کی جھلک نمایاں طور پر دیکھنے کو ملی، جو ہندوستانی ادبی روایت کی اصل روح ہے۔ معزز مہمانوں نے مشاعرے کے ساتھ ساتھ پورے پروگرام کی نہایت تعریف کی اور اسے اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔
سی ایم ڈی اپنیدر رائے اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتانے دیپ جلا کر پہلے سیشن کے پروگرام کی شروعات کی
بھارت ایکسپریس اردو کی جانب سے منعقدہ اس عظیم ادبی اجتماع میں دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا، دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا، اور بھارت ایکسپریس کے ایڈیٹر ان چیف اور سی ایم ڈی اپندرے رائے نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانان نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب، شائستگی، محبت اور اکٹھا رہنے کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بھارت ایکسپریس نے اس طرح کے شاندار پروگرام کے ذریعے نئی نسل کو اردو کی جانب متوجہ کیا ہے اور ادبی فضا کو نئے سرے سے زندہ کرنے
کی کوشش کی ہے۔
مشاعرہ—جذبات و احساسات کی محفل
چھٹا سیشن: آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن
چھٹا سیشن شام 06:00 بجے سے 09:00 بجے تک چلے گا، جس کی صدارت شکیل اعظمی کی ، جب کہ معین شاداب نظامت کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس سیشن کی مہمان خصوصی برکھا سنگھ ہیں۔ اس دوران ملک بھر سے ممتاز شعرا اور کوی اپنی شاعری اور کویتا سے لوگوں کو محظوظ کیا، جن میں اقبال اشہر، انل اگرونشی، منیکا دوبے، اظہر اقبال، ڈاکٹر افروز طالب، سریتا جین ، ممتاز نسیم، چیف گیٹ پروفیسر رحمنٰ مصور (جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور دیگر نامور شعرا نے اپنے کلام سنائیں۔
مشاعرے میں شریک شعرا و شاعرات نے مزاحیہ کلام پیش کیا جس نے ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا۔ کچھ اشعار نے سامعین کی آنکھیں نم کر دیں اور کئی اشعار نے قہقہوں کی برسات کر دی۔ محفل میں بیٹھا ہر فرد ادب کی خوشبو اور الفاظ کے جادو میں ڈوبا ہوا نظر آیا۔ آخر میں پروگرام کے آرگنائزرز نے تمام شعرا، مہمانان اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ اردو زبان کی خدمت کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ پروگرام کے اختتام پر کھڑے ہو کر تالیوں کے ساتھ شعرا کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…
برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…
افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…
اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…
اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…
مدھیہ پردیش کے اندور میں گائے چوری کے شبہ میں ایک نوجوان چندر لوہار کے…