قومی

UP Officer Cries Foul: یوپی کے افسر نے کرائی کرکری، آئی پی ایس اجے پال شرما کو ٹی ایم سی نے دی ‘4 تاریخ’ کی دھمکی، اکھلیش نے کیا کہا؟

انتخابی میدان میں الزام تراشی عام بات ہے، لیکن جب کسی بڑے پولیس افسر کا نام تنازع میں آ جائے اور سیاسی پارٹیاں آمنے سامنے آ جائیں تو ماحول کا گرم ہونا لازمی ہو جاتا ہے۔ ان دنوں مغربی بنگال کے انتخابی اکھاڑے میں اتر پردیش کے ایک سینئر آئی پی ایس افسر اجے پال شرما سے متعلق زبردست ہنگامہ برپا ہے۔ ایک طرف ترنمول کانگریس (TMC) نے انہیں کھلی دھمکی دے دی ہے، تو دوسری طرف یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اسی بہانے بی جے پی کے ‘ناری وندن’ کے دعووں پر تیز حملہ کیا ہے۔

آئی پی ایس اجے پال شرما کا وائرل ویڈیو

دراصل، اتر پردیش کیڈر کے معروف آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کی تعیناتی مغربی بنگال انتخابات میں بطور آبزرور کی گئی ہے۔ لیکن ان کی اس تعیناتی کے ساتھ ہی ایک مبینہ ‘نامناسب ویڈیو’ سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پھر کیا تھا، بنگال کی سیاست میں ‘باہر والوں’ اور ‘افسران’ کا مسئلہ پہلے ہی حساس تھا، جس پر ٹی ایم سی کو ایک بڑا ہتھیار مل گیا۔

ٹی ایم سی کا دوٹوک مؤقف

ٹی ایم سی کے ترجمان رجو دتہ نے اجے پال شرما کو نشانہ بناتے ہوئے براہِ راست حملہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور میڈیا بیانات میں واضح کہا کہ 4 تاریخ (نتائج کے دن) کے بعد بی جے پی بھی اجے شرما کو نہیں بچا سکے گی۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ ایسے متنازع افسران کی تعیناتی انتخاب کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ بنگال میں اس وقت ‘مقامی بمقابلہ بیرونی’ کا جو بیانیہ چل رہا ہے، اس میں یوپی کے اس افسر کے ویڈیو نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔

اکھلیش یادو کا حملہ

اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ چرچا سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے ٹویٹ کا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ناراضی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بنگال انتخابات کے دوران آبزرور بنے یوپی کے اس سینئر افسر کا جو ویڈیو گردش کر رہا ہے، اس سے یوپی حکومت کی شبیہ خاک میں مل گئی ہے۔ انہوں نے براہِ راست وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہیں ان کی معطلی اور برطرفی کب تک ہوتی ہے۔اکھلیش نے طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کہیں وزیر اعلیٰ اسے ‘AI سے تیار کردہ’ ویڈیو نہ قرار دے دیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سکیورٹی کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں ہوگی تو خواتین کے احترام اور تحفظ کے دعووں کا کیا ہوگا؟ ان کے مطابق، آج بی جے پی سے وابستہ خواتین بھی اس ویڈیو کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہی ہوں گی۔

بنگال میں یوپی کی شرمندگی

یوپی کے افسران کو عموماً ان کے سخت طرزِ عمل کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن اجے پال شرما کے اس مبینہ معاملے نے مغربی بنگال جیسی حساس انتخابی ریاست میں اتر پردیش انتظامیہ کی کافی شرمندگی کرائی ہے۔ ٹی ایم سی اسے انتخابی مدعا بنا رہی ہے، جبکہ اپوزیشن پارٹیاں اسے بی جے پی کی ‘خاص مہربانی’ سے فائدہ اٹھانے والے افسران کا غرور قرار دے رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

26 minutes ago

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

42 minutes ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

56 minutes ago