جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں وردی پہنے ایک پولیس اہلکار کو ٹرک ڈرائیور سے رقم لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ لکھن پور چیک پوسٹ کا ہے، جو جموں و کشمیر میں داخلے کا ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملے نے خاصی توجہ حاصل کی۔
ویڈیو میں پولیس اہلکار ٹرک ڈرائیور سے بِلٹی یعنی لاری رسید طلب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ اس کے ٹرک پر لدا سامان ایسی بِلٹی کا متقاضی نہیں ہے۔ اس بات پر دونوں کے درمیان بحث ہوتی ہے۔ اس دوران ڈرائیور پولیس اہلکار کو 30 روپے دینے کی بات کرتا ہے، تاہم پولیس اہلکار مبینہ طور پر 100 روپے دینے پر اصرار کرتا ہے۔ آخرکار ڈرائیور 100 روپے دے کر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ پورا واقعہ کسی شخص نے موبائل فون میں ریکارڈ کر لیا۔
انٹری فیس کے نام پر وصولی کا الزام
مقامی لوگوں کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ لکھن پور میں ٹرکوں سے انٹری فیس کے نام پر رقم وصول کی جا رہی ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس کی کارروائی اور طریقۂ کار پر سوالات اٹھنے لگے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ روزانہ سیکڑوں ٹرک اس راستے سے گزرتے ہیں، اس لیے اگر ہر ٹرک سے اسی طرح رقم وصول کی جا رہی ہے تو معاملہ سنگین ہو سکتا ہے۔
معلومات کے مطابق لکھن پور کا یہ انٹری پوائنٹ اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ ونگ، ضلع کٹھوعہ کے دائرۂ کار میں آتا ہے، جہاں ٹیکس سے متعلق جانچ کے لیے ٹیمیں تعینات رہتی ہیں۔ تاہم ٹیکس محکمہ نے اس واقعے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ کٹھوعہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنیل کیسری نے کہا کہ ویڈیو ان کے علم میں آیا ہے اور اس کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات کرائی جا رہی ہیں۔
وہیں اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنر جوگندر سنگھ نے کہا کہ اس واقعے سے ان کے محکمہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق محکمہ کی ٹیمیں صرف ای-وے بل کی رینڈم جانچ کے لیے وہاں موجود رہتی ہیں اور تمام اہلکاروں کو وردی پہننے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی بڑی کارروائی
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کٹھوعہ ضلعی پولیس نے فوری کارروائی کی۔ 28 ستمبر کو ضلعی پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا۔ آرڈر نمبر 768 آف 2026 کے مطابق 27 ستمبر کو لکھن پور پولیس اسٹیشن کی ناکہ پارٹی ڈیوٹی پر تعینات تھی، اسی دوران SPO امیر اُلدین نے ٹرک ڈرائیور سے 100 روپے لیے۔
تحقیقات میں رقم لینے والے اہلکار کی شناخت SPO امیر اُلدین کے طور پر ہوئی، جس کا سروس نمبر 582/SPO بتایا گیا ہے۔ اس معاملے میں Dy.SP DAR/DPL کٹھوعہ نے مذکورہ SPO کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے امیر اُلدین کو فوری اثر سے برطرف کر دیا اور اس کی آسامی خالی قرار دے دی گئی۔ اسے وردی، ہتھیار اور دیگر سرکاری سامان بھی فوری طور پر جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تین دیگر اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ تحقیقات
معاملے میں صرف SPO کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی بلکہ اسی ناکے پر ڈیوٹی انجام دینے والے تین دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ان میں HC دھرو سنگھ، ASI گیان چند اور 19 J&KAP IR کے کانسٹیبل شمشیر سنگھ شامل ہیں۔ ان اہلکاروں پر ڈیوٹی میں مبینہ غفلت برتنے کا الزام ہے۔
وہیں پورے معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری SP آپریشنز، بارڈر اینڈ کاندی، کٹھوعہ کو سونپی گئی ہے۔ انہیں J&K پولیس مینوئل کے قواعد 357 اور 359 کے تحت تحقیقات مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ویڈیو میں سامنے آنے والے الزامات کی حقیقت کیا ہے اور معاملے میں مزید کیا کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تلک نگر میں سڑک کے معائنے کے دوران نوجوان کو تھپڑ مارنے کا الزام، دہلی…
شہر مسلسل پھیل رہے ہیں اور روزگار کی تلاش میں بڑی تعداد میں لوگ شہری…
سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف ای-چالان جاری کرنا کافی نہیں، بقایا جرمانوں کی وصولی…
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اپنے پی ڈی اے فارمولے کے ذریعے پسماندہ،…
مہندر بھٹ اہلیہ، بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پہنچے، بیٹے…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس نے پیر کو ملک گیر احتجاج کیا۔…