نئی دہلی: سپریم کورٹ نے حکام کو بقایا ٹریفک چالان کی رقم وصول کرنے کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف ای-چالان جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ جرمانے کی رقم کی وصولی یقینی بنانے کے لیے نئے طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔ سماعت کے دوران جسٹس جے بی پاردی والا نے کہا کہ اگر لوگ ٹریفک چالان ادا نہیں کرتے تو حکام بجلی کے بل سمیت دیگر سرکاری واجبات کے ساتھ اسے جوڑ کر رقم وصول کرنے کے طریقوں پر غور کرسکتے ہیں۔
’چالان بجلی کے بل سے جوڑنے کا طریقہ نکالیں‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو سماعت کے دوران جسٹس پاردی والا نے کہا کہ اگر لوگ ٹریفک چالان ادا نہیں کرتے تو اسے ان کے بجلی کے بل کے ساتھ جوڑنے کا طریقہ تلاش کیا جائے، کیونکہ بجلی کا بل ادا نہ کرنے کی صورت میں بجلی کا کنکشن منقطع ہوسکتا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقریباً 45 ہزار کروڑ روپے کے ای-چالان زیرِ التوا ہیں، جبکہ اب تک صرف 25 کروڑ روپے کی وصولی ہوسکی ہے۔ جسٹس پاردی والا نے کہا کہ حکام کو زمینی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔ پولیس چاہے کتنے ہی ای-چالان جاری کردے، اصل مسئلہ جرمانے کی رقم کی وصولی کا ہے۔
گاڑی کی رجسٹریشن اور فٹنس سرٹیفکیٹ روکنے کی تجویز
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ان گاڑیوں کے خلاف مزید اقدامات کی تجویز بھی دی جن کے ٹریفک چالان بقایا ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسی گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تجدید روکنے جیسے اقدامات پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈپلیکیٹ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور ایسی گاڑیوں کی ملکیت منتقل کرنے پر بھی پابندی لگانے کے امکانات پر غور کرنے کی بات کہی گئی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی تجویز دی کہ جب تک کسی گاڑی کا بقایا چالان ادا نہ کردیا جائے، اس وقت تک اس کا فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا جائے۔
ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید روکنے پر بھی غور
عدالت نے ’پریواہن پورٹل‘ پر بقایا چالان والی گاڑیوں کو بلیک لسٹ کرنے اور ان ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید روکنے پر بھی غور کرنے کی تجویز دی جن سے زیرِ التوا چالان منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گاڑیوں کی بے ترتیب جانچ یعنی رینڈم چیکنگ کی تجویز بھی دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ اگر جانچ کے دوران کسی گاڑی کا ای-چالان بقایا پایا جاتا ہے تو ضرورت پڑنے پر حکام گاڑی ضبط کرنے کی کارروائی بھی کرسکتے ہیں۔
بجلی کے بل میں چالان جوڑنے کا حکم نہیں
جسٹس پاردی والا نے کہا کہ ملک میں نظام کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے حکام کو ایسے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بجلی کے بل میں بقایا ٹریفک چالان شامل کرنے کی بات سماعت کے دوران صرف ایک تجویز کے طور پر سامنے آئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اسے نافذ کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
شہر مسلسل پھیل رہے ہیں اور روزگار کی تلاش میں بڑی تعداد میں لوگ شہری…
کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور سے مبینہ طور پر 100 روپے رشوت لینے کا ویڈیو سوشل…
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اپنے پی ڈی اے فارمولے کے ذریعے پسماندہ،…
مہندر بھٹ اہلیہ، بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پہنچے، بیٹے…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کانگریس نے پیر کو ملک گیر احتجاج کیا۔…
مودی حکومت نے AC، ٹی وی اور دیگر بڑے گھریلو آلات پرجی ایس ٹی 28…