رپورٹس کے مطابق اتوار کی رات انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان بات چیت کے بعد اس بات پر رضامندی بنی تھی کہ سرکاری بلڈوزر کے ذریعے کارروائی کرنے کے بجائے مسجد کمیٹی خود سڑک کی زد میں آنے والے حصے کو ہٹائے گی۔ پیر کی صبح مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کا کام شروع بھی کیا گیا، لیکن بعد میں وہاں مخالفت اور ہنگامہ شروع ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق کچھ افراد نے کارروائی کو مسجد منہدم کرنے کے طور پر پیش کرتے ہوئے لوگوں کو جمع کیا۔ اس دوران احتجاج کرنے والوں اور پولیس کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور پتھراؤ شروع ہوگیا۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
شہر قاضی نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی
صورتحال بگڑنے کے بعد شہر قاضی خلیل الرحمن نے ویڈیو پیغام جاری کرکے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہی مسجد کمیٹی خود مسجد کے اس حصے کو ہٹا رہی ہے جو سڑک چوڑی کرنے کی زد میں آ رہا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں پر توجہ نہ دیں، غیر ضروری طور پر سڑکوں پر نہ نکلیں اور انتظامیہ کو اپنا کام کرنے دیں۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ شہر سب کا اپنا شہر ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سب کی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے گھروں میں رہنے اور حالات کو مزید خراب نہ کرنے کی اپیل کی۔
پولیس پر پتھراؤ، علاقے میں بھاری نفری تعینات
پولیس کے مطابق موقع پر تعینات اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو پیچھے ہٹانے کے لیے کارروائی کی۔ واقعے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق 2,500 سے زیادہ پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے، جبکہ علاقے میں نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اُجّین میں یہ تنازع سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے سے متعلق ہے، جس کے تحت شہر میں سنگھستھ 2028 سے قبل بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے متعدد تعمیرات کو ہٹانے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر 272 تعمیرات کو اس منصوبے کے تحت نشان زد کیا گیا ہے۔
معاملے میں سوشل میڈیا کے کردار کی بھی جانچ
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر گمراہ کن یا اشتعال انگیز مواد پھیلانے والے افراد پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ پیغامات اور افواہوں کو آگے نہ بڑھائیں۔ اس دوران کانگریس کے بھوپال سے رکن اسمبلی عارف مسعود نے بھی معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے مسلم برادری سے تحمل برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے پولیس کارروائی پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاملے میں مبینہ طور پر غلط فہمیاں پیدا کرکے ماحول خراب کیا جا رہا ہے۔ مسعود نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی اپیل بھی کی۔دوسری جانب انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار تک نیپال میں چار روز سے جاری موسلا دھار بارش،…
ریئلٹی شو ’رائز اینڈ فال‘ کے سیزن 2 میں اس وقت ہنگامہ مچ گیا جب…
اے آئی ٹی سی کے نام اور ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان پر دونوں دھڑوں…
نیپال کے پہاڑی اور ترائی علاقوں میں مسلسل بارش کے بعد بہار کے میدانی علاقوں…
ایشین گیمز میں ایشا کا یہ تیسرا سلور میڈل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے…
ضلع اسپتال کی اینٹی ریبیز ویکسین او پی ڈی کے انچارج ڈاکٹر موہت بنسل نے…