نیپال میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری شدید بارش اب بہار کے لیے بڑی مصیبت بنتی جا رہی ہے۔ نیپال سے آنے والی ندیوں میں پانی کی سطح بڑھنے کے باعث بہار کے میدانی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ گہرا ہوگیا ہے۔ مظفرپور ضلع میں باگمتی سمیت کئی بڑی ندیوں کی سطحِ آب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ضلع ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی روزانہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق باگمتی ندی کئی مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے اور اس میں شدید طغیانی دیکھی جا رہی ہے۔
خطرے کے نشان سے 1.80 میٹر اوپر بہہ رہی باگمتی
محکمہ آبی وسائل کی وائر گیج رپورٹ کے مطابق کٹوجھا میں باگمتی ندی کی سطحِ آب 56.80 میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ یہاں خطرے کا نشان 55.00 میٹر ہے۔ یعنی ندی تقریباً 1.80 میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ اسی طرح گائگھاٹ بلاک کے بینی آباد میں بھی باگمتی کا پانی 49.72 میٹر تک پہنچ گیا ہے، جو خطرے کے نشان 48.68 میٹر سے 1.04 میٹر زیادہ ہے۔ اگرچہ فی الحال دونوں مقامات پر پانی کا بہاؤ مستحکم بتایا جا رہا ہے، لیکن پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اتنی بلند ہونے کے باعث آس پاس کے گاؤں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
کٹرا کے 250 سے زائد خاندان سیلاب میں پھنسے
پانی کی سطح میں اچانک اضافے کا سب سے زیادہ اثر مظفرپور کے مشرقی سب ڈویژن کے کٹرا بلاک میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں بس گھٹہ اور بَری پنچایتوں میں سیلاب نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 250 سے زائد خاندان براہِ راست سیلاب کی زد میں ہیں۔ بکوچی، نوادہ، انڈما اور بَری گاؤں تقریباً مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے ہیں اور ان کا مرکزی سڑکوں سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ باگمتی ندی کٹرا، اورائی اور گائگھاٹ بلاک سے ہوکر گزرتی ہے، اس لیے ان تینوں بلاکس کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کے سامنے بے گھر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ کئی لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
چھتوں اور پشتوں پر رات گزارنے کو مجبور لوگ
مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ تین دنوں سے پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہے اور سطحِ آب کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ سیلاب کا پانی گاؤں کی اہم سڑکوں سے ہوتا ہوا گھروں اور سرکاری اسکولوں تک پہنچ گیا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ لوگ اپنی جان اور مویشیوں کو بچانے کے لیے اونچے پشتوں یا پکے مکانوں کی چھتوں پر ترپال لگا کر رہنے پر مجبور ہیں۔ دیہاتی منٹو کمار، راجا کمار اور آشا دیوی نے بتایا کہ گاؤں میں چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے اور روزمرہ کی زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے۔
’ایک چوکی کے اوپر دوسری چوکی رکھ کر کھانا بنا رہے ہیں‘
سیلاب سے متاثرہ ببیتا دیوی نے اپنی صورتحال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھر کے اندر گھٹنوں تک پانی بھر گیا ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہم ایک چوکی کے اوپر دوسری چوکی رکھ کر کسی طرح اس پر کھانا بنا رہے ہیں اور اسی طرح رات گزار رہے ہیں۔‘‘ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود اب تک ضلعی انتظامیہ کا کوئی افسر یا عوامی نمائندہ ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی امدادی سامان بھی نہیں ملا، جس کی وجہ سے سیلاب متاثرین خود کو بے سہارا محسوس کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار تک نیپال میں چار روز سے جاری موسلا دھار بارش،…
ریئلٹی شو ’رائز اینڈ فال‘ کے سیزن 2 میں اس وقت ہنگامہ مچ گیا جب…
اے آئی ٹی سی کے نام اور ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان پر دونوں دھڑوں…
اُجّین: مدھیہ پردیش کے اُجّین میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک چوڑی کرنے…
ایشین گیمز میں ایشا کا یہ تیسرا سلور میڈل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے…
ضلع اسپتال کی اینٹی ریبیز ویکسین او پی ڈی کے انچارج ڈاکٹر موہت بنسل نے…