احمد آباد: اوبر نے بھارت میں اپنا پہلا ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ اڈانی گروپ کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے۔ اوبر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دارا خسرو شاہی نے بدھ کے روز گوتم اڈانی سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس پیش رفت کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تیزی سے اوبر کے لیے ایک بڑے انوویشن ہب کے طور پر ابھر رہا ہے۔ دارا خسرو شاہی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ: ’’آج صبح احمد آباد میں گوتم اڈانی سے ملاقات خوشگوار رہی۔ اڈانی گروپ کے ساتھ موجودہ شراکت داری کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اوبر بھارت میں اپنا پہلا ڈیٹا سینٹر قائم کر رہی ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی جانچ اور اس کی تعیناتی کی جا سکے۔ اوبر کے مطابق یہ ڈیٹا سینٹر کمپنی کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور انوویشن سرگرمیوں کو سہارا دے گا، کیونکہ بھارت نہ صرف موبلٹی سروسز بلکہ انجینئرنگ اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کے حوالے سے بھی کمپنی کے لیے اہم بازار بنتا جا رہا ہے۔
سال کے آخر تک منصوبہ تیار ہونے کی امید
اوبر کے سی ای او نے بتایا کہ یہ منصوبہ رواں سال کے آخر تک تیار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سرمایہ کاری سے کمپنی کو بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں تیزی سے سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، جس کے باعث عالمی کمپنیاں ملک کو ٹیکنالوجی ہب کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
اڈانی گروپ کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بڑا داؤ
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اڈانی گروپ ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبے میں تیزی سے اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ اعلان کیا گیا تھا کہ اڈانی کونیکس، جو اڈانی گروپ اور ایج کونیکس کا مشترکہ منصوبہ ہے، وشاکھاپٹنم میں ایک گیگاواٹ اے آئی ریڈی ڈیٹا سینٹر پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جسے بھارت کی اگلی تکنیکی اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
وشاکھاپٹنم میں 15 ارب ڈالر کا اے آئی ہب
اس اعلان سے قبل اکتوبر میں اڈانی انٹرپرائزز کی مشترکہ کمپنی اڈانی کونیکس نے گوگل کے ساتھ مل کر بھارت کے سب سے بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر کیمپس اور گرین انرجی انفراسٹرکچر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ یہ منصوبہ وشاکھاپٹنم میں قائم کیا جا رہا ہے، جہاں 2026 سے 2030 کے درمیان تقریباً 15 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس اے آئی ہب میں گیگاواٹ سطح کے ڈیٹا سینٹر، سب میرین کیبل کنیکٹیویٹی اور صاف توانائی کے نظام شامل ہوں گے تاکہ بھارت میں جدید مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
گرین انرجی اور پاور گرڈ کو بھی تقویت
یہ منصوبہ ایئرٹیل سمیت دیگر شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس میں گرین انرجی، ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر اور انرجی اسٹوریج سسٹمز میں بھی مشترکہ سرمایہ کاری شامل ہوگی، جس سے نہ صرف ڈیٹا سینٹر کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ بھارت کے پاور گرڈ کی صلاحیت اور استحکام میں بھی اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بھارت کو عالمی اے آئی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے نقشے پر مزید مضبوط مقام دلانے کی سمت اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…