نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے اتر پردیش میں 35 برس سے زیر التوا ایک فوجداری مقدمہ ختم کرتے ہوئے عدالتی نظام میں تاخیر پر سخت برہمی ظاہر کی ہے۔ یہ مقدمہ کمبھ میلہ ڈیوٹی کے دوران پولیس میس میں کھانے کے تنازع سے متعلق تھا، جس میں ایک پولیس کانسٹیبل کے خلاف 1991 سے کارروائی جاری تھی۔ عدالت نے نہ صرف ملزم کو راحت دی بلکہ الہ آباد ہائی کورٹ سے ریاست کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات، جیلوں میں بند زیر سماعت قیدیوں اور ضمانت درخواستوں سے متعلق مکمل اعداد و شمار بھی طلب کر لیے۔
’’35 سال تک مقدمہ چلنا ناقابل قبول‘‘
رپورٹ کے مطابق جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس اُجّل بھوئیاں پر مشتمل بنچ نے 29 اپریل کے فیصلے میں یوپی پولیس کانسٹیبل کیلاش چندر کاپڑی کی اپیل منظور کی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ معمولی نوعیت کے الزامات جیسے مارپیٹ اور دھمکی کے مقدمے کو 35 سال تک جاری رکھنا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ عدالت نے کہا: ’’فوری انصاف آئین کے آرٹیکل 21 کا لازمی حصہ ہے۔ اتنی طویل کارروائی ملزم کے منصفانہ سماعت کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘
پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف درج ہوئی تھی ایف آئی آر
یہ معاملہ 1989 کا ہے، جب کمبھ میلہ ڈیوٹی کے دوران الہ آباد کے جی آر پی رام باغ تھانے کی میس میں کھانے کو لے کر تنازع ہوا تھا۔ الزام تھا کہ پانچ پولیس کانسٹیبلوں نے ایک ساتھی اہلکار کے ساتھ مارپیٹ کی۔ ایف آئی آر میں فساد، جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے اور توہین آمیز رویے سمیت متعدد دفعات لگائی گئی تھیں۔ بعد میں دو شریک ملزمان کی موت ہو گئی جبکہ دو دیگر کو 2023 میں ثبوت اور گواہوں کی کمی کے باعث بری کر دیا گیا۔ اس کے بعد کیلاش چندر کاپڑی نے مقدمہ ختم کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، لیکن راحت نہ ملنے پر سپریم کورٹ پہنچے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے واضح کیا کہ صرف ایک ملزم کو راحت دینا کافی نہیں، بلکہ عدالتی نظام کی خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو 13 جولائی تک حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس میں ریاست کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد، ان مقدمات کی مدت، جیلوں میں قید زیر سماعت افراد کی تفصیل، ججوں کی منظور شدہ اور خالی آسامیوں کی معلومات اورعدالتی کارروائی میں رکاوٹوں کی وجوہات شامل کرنے کو کہا گیا ہے۔
ضمانت درخواستوں میں تاخیر پر بھی عدالت برہم
سپریم کورٹ نے زیر التوا ضمانت درخواستوں سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے پوچھا ہے کہ کتنے قیدی 10 سال، 8 سے 10 سال یا اس سے کم عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں جبکہ ان کی ضمانت درخواستیں ابھی تک زیر التوا ہیں۔ عدالت نے یہ بھی جاننا چاہا کہ آیا پرانے ضمانتی مقدمات اور طویل عرصے سے جیل میں بند قیدیوں کے معاملات کو ترجیح دینے کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے اس سخت موقف کو عدالتی نظام میں تاخیر، زیر سماعت قیدیوں کے حقوق اور انصاف کی بروقت فراہمی کے حوالے سے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے اردو صحافت کانکلیو میں سابق مرکزی وزیرشاہنوازحسین اور سابق…