قومی

Karnataka Cabinet Expansion: کرناٹک کابینہ میں نہیں ملی جگہ، ناراض دو اراکین اسمبلی نے دے دیا استعفیٰ، ڈی کے شیو کمار کے لئے آگئی بڑی مصیبت

کرناٹک میں وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمارکی قیادت والی کانگریس میں کابینہ توسیع سے پہلے پہلے (3 اگست، 2026) کوپارٹی کے اندراختلاف سامنے آگیا ہے۔ دراصل، کرناٹک حکومت کے کابینہ میں جگہ نہیں ملنے کے بعد کانگریس کے دواراکین اسمبلی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفیٰ دینے والے دونوں اراکین اسمبلی میں ریاست کے وجے پورہ ضلع کے انڈی اسمبلی حلقہ سے کانگریس رکن اسمبلی یشونت رائے گوڑا وی پاٹل اورساگراسمبلی سیٹ سے رکن اسمبلی بیلورگوپال کرشنا کا نام شامل ہے۔

دراصل، کرناٹک میں پیر(3 اگست، 2026) کوکانگریس حکومت کے کابینہ میں بڑی توسیع ہونی ہے، جس میں 20 نئے وزرا کوشامل کرکے انہیں حلف دلایا جانا ہے۔ ایسے میں کابینہ میں جگہ نہ ملنے کے امکانات سے متعلق پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی میں نا اتفاقی اورناراضگی دیکھی جا رہی ہے اوران کا ماننا ہے کہ پارٹی میں سینئرہونے اورتنظیم کے تئیں اپنا تعاون دینے کے باوجود انہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسی ناراضگی کے سبب انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

کابینہ میں نئے چہروں کو بھی موقع دینے کا اعلان

کرناٹک حکومت کے کابینہ میں ہونے والی توسیع سے متعلق کانگریس پارٹی نے 20 نئے وزرا کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ پارٹی نے ڈی کے شیوکمار کی کابینہ میں کچھ نئے چہروں کو موقع دیا ہے، جبکہ کئی پرانے اورتجربہ کارلیڈران کو بھی دوبارہ ذمہ داری سونپی جانے والی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈی کے شیوکمار کے کابینہ میں ایک خاتون لیڈر اے وی گائتری شانتی گوڑا کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو کہ سابق وزیراعلیٰ سدارمیا کی قریبی بتائی جا رہی ہیں۔

کون کون سے لیڈرلیں گے وزیرکا حلف؟

کرناٹک حکومت میں وزیرعہدے کا حلف لینے والے نئے 20 لیڈران میں پی ایم نریندرسوامی، شیوراج تھنگادگی، رودراپا لمانی، کے ایس بسون تھپّا، بی ناگیندر، رگھومورتی، ضمیراحمد خان، رضوان ارشد، سنتوش لاد، مدھو بنگارپّا، پترانگا شیٹی، منکل ویدھ، اجے سنگھ، این چالوا رائے سوامی، کے ایم شیوالنگے گوڑا، ایچ سی بال کرشن، بسوراج رائے ریڈی، گائتری شانتی گوڑا، وجیانند کاشن پنّور اورلکشمن ساوادی کا نام شامل ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

4 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

5 hours ago