چین کی شارٹ ویڈیو ایپ ٹک ٹاک نے پانچ سال بعد ایک بار پھر ہندوستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ بہت سے صارفین نے اطلاع دی ہے کہ وہ ٹک ٹاک کی آفیشل ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہیں۔ تاہم، یہ صرف ابتدائی مرحلے میں ہے اور ایپ ابھی تک گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور سے ڈاؤن لوڈ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے والے تمام صارفین کو ایک جیسا تجربہ نہیں ملا۔ کچھ لوگوں نےایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ ویب سائٹ ابھی تک ان کے لیے بلاک ہے۔ ہم نے ویب سائٹ کھولی تو ہوم پیج کھلا پایا، لیکن باقی صفحات تک رسائی نہیں ہو سکی۔
یہ پیش رفت لوگوں کو 2020 کی یاد دلاتا ہے، جب بھارتی حکومت نے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپس پر پابندی لگا دی تھی۔ اس میں شیراٹ اورکیم سکینر بھی شامل تھا۔ حکومت نے دلیل دی تھی کہ یہ ایپس ہندوستان کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ صرف ہندوستان میں ہی نہیں، امریکہ میں بھیٹک ٹاک پر بحران گہرا ہوگیا ہے۔ وہاں کی حکومت ایپ پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی خریدار ٹک ٹاک خریدنے کے لیے تیار ہیں اور وہ بائٹ ڈانس کو امریکی اثاثے فروخت کرنے کی آخری تاریخ بڑھانے پر غور کر سکتے ہیں۔
آپ کو بتادیں کہ پی ایم مودی رواں ماہ کی آخری تاریخ کو چین کا دورہ کرنے والے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے چین کے ساتھ تلقات بہتر کرنے کی غرض سے ایسا قدم اٹھا رہی ہے تاکہ بدلتے عالمی سیاسی منظر کے بیچ ہندوستان کی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رشتے اچھے رہیں۔
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی پوسٹر وار تیز ہوگئی ہے۔…
غازی آباد کے سن سٹی میں 22 سے 28 اکتوبر تک چھترپتی شیواجی مہاراج کی…
عالمی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کے بحران اور تعلیم سے متعلق مسائل کے…
نو راتری کے موقع پر گوتم اڈانی نے جنوبی گجرات میں شریمد راج چندر مشن…
گوا میں راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے الزامات کو لے کر الیکشن کمیشن کو…
منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…