قومی

BJP MP Nishikant Dubey on Supreme Court: ’’اس ملک میں مذہبی جنگ بھڑکانے کے لیے صرف اور صرف سپریم کورٹ ذمہ دار‘‘، بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے کا سپریم کورٹ سے متعلق متنازعہ بیان

نائب صدر جگدیپ دھنکھر کے بعد بی جے پی کے رکن پارلیمان نشی کانت دوبے نے بھی ہفتہ کو سپریم کورٹ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کو ہی قانون سازی کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو بند کر دینا چاہیے۔ دوبے نے سپریم کورٹ پر مزید حملہ بولتے ہوئے اے این آئی سے بات کی اور کہا ’’ہندوستان میں مذہبی جنگ بھڑکانے کے پیچھے پیچھے صرف اور صرف سپریم کورٹ کا کردار ہے۔‘‘ دوبے نے اور کہا کہ ’’سپریم کورٹ اپنی حد پار کر رہا ہے۔‘‘ دوبے کا یہ تبصرہ وقف (ترمیمی) قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں پر عدالت میں جاری سماعت کے درمیان آیا ہے، جسے اس ماہ کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔ ساتھ ہی صدر اور گورنرز کے اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو بھی انھوں نے نشانہ بنایا ہے۔

اے این آئی سے بات کرتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا ’’دفعہ 377 کے تحت ہم جنسیت ایک بڑا جرم تھا۔ ابھی امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے بھی یہی کہا ہے کہ اس دنیا میں صرف دو ہی جنس ہیں۔ پوری عیسائی برادری، ہندو برادری، مسلم برادری اور دیگر تمام مذہبی برادریوں میں اسے جرم مانا جاتا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے اس دفعہ کو ختم کر دیا۔ ہم نے آئی ٹی قانون بنایا، سپریم کورٹ نے اسے ختم کر دیا۔ میں دفعہ 141 کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ اس کے مطابق ہم (پارلیمنٹ) جو قانون بناتے ہیں وہ نچلی عدالت سے لے کر عدالتِ عظمیٰ تک پر نافذ ہوتا ہے۔ وہیں دفعہ 368 کے مطابق پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا اختیار ہے، سپریم کو محض اس کی تشریح کا اختیار ہے۔‘‘

دوبے نے اسی پر پس نہیں کیا بلکہ مزید کہا ’’وہ بتا رہے ہیں کہ تین مہینے میں صدر اور گورنر کو کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔ جب رام مندر کا معاملہ ہوتا ہے تو آپ کاغذ مانگتے ہیں، جب متھرا میں کرشن جنم بھومی کا معاملہ آتا ہے تو کہتے ہیں کہ کاغذ دکھاؤ۔۔۔۔اور آج آپ مغلوں کے آنے کے بعد جو مسجدیں بنی ہیں ان کے لیے کہتے ہیں کہ ان کے کاغذ کیسے دکھائے جا سکتے ہیں۔ اس ملک میں مذہبی جنگ بھڑکانے کے لیے صرف اور صرف سپریم کورٹ ذمے دار ہے۔۔۔۔سپریم کورٹ اپنی حد پار کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی حد یہ ہے کہ ہندوستان کے آئین کی تشریح کرے۔ اور اگر ہر چیز کے لیے سپریم کورٹ ہی جانا ہے تو پھر پارلیمنٹ کا کوئی مطلب نہیں ہے، اسے بند کر دینا چاہیے۔‘‘

دوبے نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور صاف لفظوں میں کہا ’’اس ملک میں جتنی بھی خانہ جنگی ہو رہی ہے اس کے ذمہ دار یہاں کے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ صاحب ہیں۔‘‘

دوبے کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ایم ٹیگور نے کہا ہے کہ ’’یہ سپریم کورٹ کے خلاف ہتک آمیز بیان ہے۔ نشی کانت دوبے ایک ایسے شخص ہیں جو دوسرے تمام اداروں کی سبوتاژی میں مصروف رہتے ہیں۔ اب انھوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ کے جج اس کا نوٹس لیں گے کیوں کہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے باہر ایسا بول رہے ہیں۔ سپریم کورٹ پر ان کا حملہ قابل قبول نہیں ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

JUSTICE B.R. GAVAI ADDRESS: باوقار زندگی کے بغیر حقوق بے معنی، جسٹس بی آر گوائی کا 9ویں این سی چاگلہ لیکچر سے خطاب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…

6 hours ago

Jayant Chaudhary meets PM Modi: وزیراعظم نریندر مودی سے اہل خانہ کے ساتھ ملے جینت چودھری، اتحاد کا دیا پیغام

مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…

7 hours ago

Ronaldo Ends Retirement Speculation: رونالڈو کی ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیاں ختم، نیشنز لیگ کے لیے پرتگال کی ٹیم میں شامل

پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…

7 hours ago

Zimbabwe vs Australia: آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میچ میں زمبابوے کو 84 رنز سے دی شکست، سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کی

ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…

8 hours ago

Chief Minister Hemant Soren: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو ای ڈی کیس میں ہائی کورٹ سے راحت نہیں، ٹرائل جاری رہے گا

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…

8 hours ago

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

9 hours ago