مہاراشٹر حکومت کی جانب سے این ای پی 2020 کے تحت ہندی کو تیسری زبان کے طور پر لازمی قرار دینے پر ریاست میں جاری سیاسی ہنگانے کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ہفتے کے روز زور دے کر کہا کہ مراٹھی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے، وہ سب کو سیکھنی ہوگی۔ اضافی زبانوں کا سیکھنا لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ فڑنویس نے ہندی کی مخالفت اور انگریزی کی بڑھتی ہوئی ترجیح پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مراٹھی زبان کے خلاف کوئی بھی چیز برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’مہاراشٹر میں مراٹھی زبان لازمی ہے۔ ہر کسی کو اسے سیکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ اگر آپ دوسری زبانیں سیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ ہندی کی مخالفت اور انگریزی کو فروغ دینا حیران کن ہے۔ اگر کوئی مراٹھی کی مخالفت کرتا ہے تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ تاہم واضح رہے کہ قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کے مطابق مہاراشٹر حکومت نے مراٹھی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ ریاستی بورڈ کے تمام اسکولوں میں کلاس 1 سے تیسری زبان کے طور پر ہندی کی تعلیم کو لازمی قرار دیا ہے۔
مہاراشٹر کی ریاستی کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی ای آر ٹی) کے ڈائریکٹر راہل اشوک نے جمعرات کو کہا کہ یہ فیصلہ محکمہ اسکول ایجوکیشن نے 16 اپریل کو لیا تھا۔ انھوں نے اے این آئی کو بتایا کہ ’’مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک فیصلہ لیا ہے جس میں ریاستی بورڈ کے تمام اسکولوں میں پہلی کلاس سے مراٹھی اور انگریزی کے ساتھ ہندی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ تمام تقرریوں اور ان کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور طلباء کو یقینی طور پر اس کا فائدہ ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…