نئی دہلی: اسلام نے انسانی پیڑھی کے تمام ادوارکے لیے جواحکامات جاری کئے ہیں وہ انتہائی قابل قدر، مضبوط، مستحکم، حکیمانہ اورباریک ہیں جبکہ نئی نسل کی تربیت پرسب سے زیادہ خصوصی توجہ بھی دی گئی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے بچوں سے لے کرنوجوانوں تک اوربچیوں سے لے کرچڑھتی عمرکی لڑکیوں اورخواتین تک بہت باریکی کے ساتھ تربیت کے پہلوؤں کا لحاظ رکھا کرتے ہیں۔ آج جنریشن الفا اورجنریشن زی کے نام سے جونئی اصطلاحات وجود میں آئی ہیں اوراس کے ذریعہ بہت سے شریفانہ اقدارکی پامالی ہورہی ہے اس پربھی اسلام نے 1450 سال پہلے ہی ایک مضبوط گائیڈ لائن تیارکردی تھی۔ جس کی تفصیل کا تویہ موقع نہیں ہے، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے چند ایسے مواقف کا تذکرہ یہاں کیا جارہا ہے، جونئی نسل میں شریفانہ اقدارکوبیدارکرنے اوراسلامی تعلیمات کوتحفظ فراہم کرنے سے متعلق بہت اہم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سینٹرکی جامع مسجد ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ، جوگابائی، نئی دہلی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔ مولانا محمد رحمانی نئی نسل کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعامل سے متعلق چند اہم امورکا تذکرہ کررہے تھے اوریہ خطبہ دراصل سابقہ خطبہ کا تکملہ تھا، جس میں انہوں نے جنریشن زی اورجنریشن الفا سے متعلق اسلامی تعلیمات پرعمومی گفتگوکرکے یہ وعدہ کیا تھا کہ آئندہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کی روشنی میں اس موضوع پرمخصوص اندازسے مزید گفتگو کی جائے گی۔ اسی ضمن میں مولانا محمد رحمانی نے سیرت طیبہ اوراحادیث صحیحہ کی روشنی میں درج ذیل مختصرامورپرتفصیل سے روشنی ڈالی۔
رسول اکرمﷺ نے حرام کھانے سے بچنے کی تلقین کی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نئی نسل کواللہ کے حدود اوراحکامات کے تحفظ کی تلقین اورتاکید کیا کرتے تھے اوراللہ سے مدد مانگنے اوراسی پراعتماد اورتوکل کرنے نیزاسی سے سوال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اسی طرح 7 سال کی عمرمیں نمازکے واجب نہ ہونے کے باوجود نماز کا حکم دینے اور10 سال کی عمرمیں بھی نہ پڑھنے پرسختی کرنے اوربستروں کوالگ کر دینے کا حکم دیا کرتے تھے اوراہل خانہ سے بچوں کے بارے میں سوال بھی کرتے تھے کہ اس نے نمازادا کی ہے یا نہیں، اسی طرح نمازکے طریقہ کی تربیت، اہل وعیال پرداخل ہونے کے وقت سلام کرنے کی تلقین، بڑوں کے پاس داخل ہونے سے پہلے ان سے اجازت لینے وغیرہ کی بھی تاکید فرماتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کا ایک بنیادی پہلوحرام کھانے سے بچنے کی تلقین اورکھانے پینے کے آداب کی تربیت بھی ہے اسی طرح بچوں سے نرم لہجہ اختیارکرنا، ان سے پیاراورمحبت کے ساتھ پیش آنا ان پررحم وکرم کرنا اوران کی خوبیوں پرانہیں حوصلہ دینا اورتعریف کرنا بھی شامل ہے ۔
بچوں سے بے حد پیارکرتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معمول یہ بھی تھا کہ آپ بچوں کوبوسہ دیتے تھے، ان کے سرپرہاتھ پھیرتے تھے، انہیں سینے سے لگا کردعائیں دیتے تھے، نومولود بچوں کوگود میں لے کر ان کا نام رکھتے تھے ، دعا دیتے تھے اورکھجورچٹا کرتحنیک فرمایا کرتے تھے، بچوں کونمازکی حالت میں بھی گود میں اُٹھالیا کرتے تھے اورنمازکی حالت میں بھی انہیں پیٹھ پر چڑھنے اور کھیلنے کودنے کا موقع دیا کرتے تھے اورنظربد اوربرائیوں سے محفوظ کرنے کے لیے ان کودعائیں دیتے تھے اوررقیہ کرتے تھے ۔ بسا اوقات بچوں کی خدمت کرنا اوران کا تعاون کرنا بھی آپ کا معمول تھا ، رات کے وقت میں بچوں کوکھانے پینے کے سامان کی ضرورت پرنیند سے بیدار ہوکر ان کی خدمت کرنا نیزبچوں کوکچھ تحفہ ھدیہ دینے میں عدل کرنے کا حکم دینا ، ان کو بہلانے کے لیے جھوٹی امید دلانے سے اجتناب کرنا اوراجتناب کرنے کی تاکید کرنا اوربچوں سے سامنا ہونے پر سلام کرنے اور دعا دینے میں پہل کرنا بھی آپ کا معمول تھا۔
رسول اکرمﷺکے طریقوں پرعمل کرنے کی اپیل
مولانا محمد رحمانی مدنی نے کہا کہ بڑے افراد پربچوں کومقدم کرنا اوران کے حقوق ادا کرنا، بچوں سے اذیت اورتکلیف کودورکرنا وغیرہ بھی آپ کی سیرت مطہرہ کا اہم گوشہ ہے اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے وقت بچوں کوباہرکھیلنے سے روکتے تھے کیوں کہ یہ شیاطین کے گھومنے کا وقت ہوتا ہے اوربچوں سے کھیل کود اورہنسی مذاق کا خاص اہتمام فرماتے تھے یہاں تک کہ نمازکی حالت میں بھی آپ کے نواسے حسن وحسین اورنواسی امامہ اوردیگربچوں اوربچیوں کوگود میں اُٹھالیتے اورکندھے پربٹھا کرخطبہ دیتے۔ نیزبچے سجدہ کی حالت میں آپ کی پیٹھ پربیٹھتے توسجدہ لمبا کردیتے وغیرہ یہ سب سیرت مبارکہ کے وہ بنیادی پہلوہیں، جونئی نسل کی تربیت کے اہم گوشے ہیں۔ آخرمیں سیرت مطہرہ کے تربیتی پہلوؤں کواپنانے کی اپیل اوردعائیہ کلمات پرخطبہ ختم ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…
اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے…
اسرائیلی وزیر اعظم نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی پر یہود مخالف جذبات کو ہوا…
مرکزی وزیر ہرش ملہوترا نے نئی دہلی سے ’یوتھ سیفٹی اینڈ اسمارٹ موبلٹی مہم 2026‘…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت…