نئی دہلی: دیش بھکتی اور وطن پرستی کے جذبے سے سرشار ایک نئی کتاب ’بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں‘ ان دنوں دانشور حلقوں میں خاصی گفتگو کا مرکز بنی ہوئی ہے۔مسلم راشٹریہ منچ (MRM) کے سرپرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر رہنما اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ڈاکٹر اندریش کمار کے ہاتھوں ہریانہ بھون، نئی دہلی میں رونمائی شدہ اس کتاب میں ملک کی 115 ممتاز اور دیسش بھکت شخصیات کی زندگیوں اور خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان ناموں میں ایک نام ہے – کرنل طاہر مصطفیٰ، جو اس وقت جامعہ ہمدرد (Deemed to be University) کے رجسٹرار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بھارتی اتحاد کی زندہ جاوید مثال
کرنل طاہر مصطفیٰ کی زندگی محض ایک سوانح حیات نہیں، بلکہ بھارتی ثقافت کی اس ’’تنوع میں اتحاد‘‘ کی انتہا ہے، جس کی روایت قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ مصنف یاجویندر یادو نے کتاب میں ذکر کیا ہے کہ کس طرح کرنل مصطفیٰ کی شخصیت میں ایک پابند سلاسل سپاہی، ایک تکنیکی ماہر، ایک جلیل القدر تعلیمی منتظم اور ایک قوم پرست مفکر کا شاندار سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ مغربی فلسفے کے ’سروائیول آف دی فٹسٹ‘ کے تصور کو بھارتی ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘ کے منتر سے کہیں زیادہ معنی خیز سمجھتے ہیں۔
ہمالیہ کی چوٹیوں سے وزارت خارجہ تک کا سفر
کرنل مصطفیٰ کا سفر انتہائی متاثر کن اور متنوع رہا ہے۔ بھارتی فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد ان کی تعیناتی ملک کی انتہائی حساس سرحدوں پر رہی۔ فوج ذرائع کے مطابق، انہوں نے سکم میں مشرقی سرحد پر ٹاسک فورس کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بھارت-نیپال سرحد کے سروے کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ اس کے بعد وزارت خارجہ (MEA) میں ’باؤنڈری سیل‘ کے سربراہ اور ’انٹرنیشنل باؤنڈری ڈائریکٹوریٹ‘ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے سرحدی انتظام میں تکنیکی نفاست اور سفارتی شعور کا ایسا توازن قائم کیا، جو ایک مثال بن گیا۔ جی آئی ایس پر مبنی میپنگ اور ڈیجیٹل سروے میں ان کی خدمات کے لیے انہیں ’ایسٹرن آرمی کمانڈر تعریفی سند (2007) اور ‘سروے آف انڈیا ایپریسی ایشن ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ فوج کے ذرائع کے مطابق، سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے بھی انہیں 2007 میں تعریفی خط سے نوازا تھا۔
جامعہ ہمدرد میں ایک نئے دور کا آغاز
فوج اور سفارت کاری میں شاندار کیریئر کے بعد جب انہوں نے تعلیمی میدان میں قدم رکھا، تو ان کے ساتھ نظم و ضبط اور قوم پرستی کا وہی جذبہ رہا۔ جولائی 2025 میں جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے انتظامی اصلاحات کی سمت متعین کر دی۔ اورحالیہ شائع ہوئی کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ حال ہی میں وزارت داخلہ اور وزارت یوتھ افیئرز کے اشتراک سے منعقدہ ’کشمیر یوتھ ایکسچینج پروگرام‘ اور قومی کراس ورڈ مقابلوں میں ان کے فعال کردار نے ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کو تقویت دی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں کشمیر کے نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ سب سے پہلے ہندوستانی اور بھارتی ہیں۔‘‘ ان کی قیادت میں ‘گرین کیمپس مشن’، ای-گورننس اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق اصلاحات کو رفتار ملی ہے۔
خدمت، ہم آہنگی اور سائنسی نقطہ نظر کی علامت
کرنل مصطفیٰ کا ماننا ہے کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ کردار سازی ہے۔ ان کا فکر و فلسفہ انتہائی جامع ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’بھارتی ہونا ہی سب سے بڑی پہچان ہے – مذہب، ذات یا فرقے سے بالاتر۔‘‘ جامعہ ہمدرد کے مطابق، اگست 2025 میں منعقدہ ’اینٹی ریگنگ ہفتہ‘ کے افتتاحی اجلاس میں بھی انہوں نے طلبہ کو ریگنگ کے نفسیاتی اثرات سے آگاہ کیا اور ایک محفوظ اور باوقار کیمپس کی تعمیر پر زور دیا۔
انہیں ان کی انہی منفرد خدمات کے لیے حال ہی میں تلنگانہ انٹلیکچوئل فورم (TIF) نے معزز ’’ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایکسیلنس ایوارڈ 2025‘‘ سے نوازا۔یونیورسیٹی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، ایک سینئر پروفیسر نے انہیں ’’دیانتداری، ہمت اور علمی ریاضت کی علامت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ان کی زندگی محض کیریئر نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔‘‘
نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ
کرنل طاہر مصطفیٰ کا نام آج بھارت کے 100 بااثر مسلم شخصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی کامیابیوں کی وجہ سے، بلکہ اپنے کردار اور قوم سے لگن کی وجہ سے مشعل راہ ہیں۔ کتاب ’بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں‘ انہیں ایک ایسے افسر کے طور پر پیش کرتی ہے جو عزت سے خدمت کرتا ہے، ایک ایسے ماہر تعلیم کے طور پر جو دور اندیشی سے قیادت کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے بھارتی کے طور پر جو سرحدوں کو جوڑنے اور قومی ہم آہنگی کو بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے: ’’قومی ہم آہنگی اسی وقت پروان چڑھے گی جب ہر شہری متحد ہو کر ایک مضبوط، خود کفیل اور جامع بھارت کی تعمیر کرے گا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس…
پنڈھری ناتھ علاقے میں بدریناتھ مندر اور تھانے کے سامنے پیش آیا واقعہ، کوئی جانی…
چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…
اکھلیش یادو کی موجودگی میں لیڈروں کے درمیان تلخ کلامی اور گالی گلوچ، دونوں اضلاع…
دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد…
نابالغ لڑکے اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر سیاست گرم، جے ڈی یو…