جہاں مقامی کوئلہ دستیاب، وہاں درآمد کی ضرورت نہیں
سابق وزیرِ کوئلہ کے طور پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسے کوئلے کی درآمد کم ہوئی ہے جسے ملکی وسائل سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ مخصوص پاور پلانٹس اور میٹل انڈسٹری کے لیے اب بھی کوئلے کی درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھارتی کوئلہ استعمال ہو رہا ہے وہاں درآمد کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔
’یوٹیلیٹی لیڈ ماڈل‘ کے ذریعے توانائی کے شعبے کو فروغ
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور حکومت 2027 تک مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کافی صلاحیت قائم کی جا چکی ہے، لیکن آگے بھی کافی کام باقی ہے جسے ‘یوٹیلیٹی لیڈ ماڈل’ کے ذریعے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے شمسی توانائی اور گرین انرجی کے شعبے میں شاندار کام کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک نے اس میدان میں تیزی سے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی کئی بڑے منصوبوں پر کام جاری رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پی ایم کُسم اسکیم کے تحت 30 لاکھ…
وزیرداخلہ نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر الزام لگایا کہ انہوں نے پوری ریاست کو…
فٹنس اور ماحول دوست آمدورفت کو فروغ دینے کے لیے شہر کے اہم مقامات پر…
پائلٹوں کی تنظیم نے ملک بھر میں ہیلی کاپٹر آپریشنز کا جامع جائزہ لینے پر…
گجرات کے وڈودرا کی فنکارہ شاہینہ گاندھی نے قدرتی عقیق کے پتھروں سے قومی یومِ…
پارٹی مخالف سرگرمیوں اور ایم ایل سی انتخابات میں باغیانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات…