جہاں مقامی کوئلہ دستیاب، وہاں درآمد کی ضرورت نہیں
سابق وزیرِ کوئلہ کے طور پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسے کوئلے کی درآمد کم ہوئی ہے جسے ملکی وسائل سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ مخصوص پاور پلانٹس اور میٹل انڈسٹری کے لیے اب بھی کوئلے کی درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھارتی کوئلہ استعمال ہو رہا ہے وہاں درآمد کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔
’یوٹیلیٹی لیڈ ماڈل‘ کے ذریعے توانائی کے شعبے کو فروغ
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور حکومت 2027 تک مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کافی صلاحیت قائم کی جا چکی ہے، لیکن آگے بھی کافی کام باقی ہے جسے ‘یوٹیلیٹی لیڈ ماڈل’ کے ذریعے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے شمسی توانائی اور گرین انرجی کے شعبے میں شاندار کام کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک نے اس میدان میں تیزی سے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی کئی بڑے منصوبوں پر کام جاری رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
15 اکتوبر 2026 سے 2,000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیوں پر عائد…
بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام،…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں…
سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…
وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری…
’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…