مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو اتر پردیش کے لکھنؤ میں ایک عوامی اجتماع کے دوران کہا کہ آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ ہندوستان کا خون ’’بہانے کے لیے نہیں ہے‘‘ اور جو بھی اس کی ہمت کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی۔
امت شاہ 60,000 سے زیادہ نئے منتخب پولیس کانسٹیبلوں کو تقرری کے خطوط دینے کی تقریب میں شرکت کے لیے لکھنؤ پہنچے۔ اس دوران عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے 2014 سے پہلے یو پی اے کی قیادت میں برسوں کے دوران ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں کو روکنے میں ناکام ہونے پر کانگریس پر تنقید کی۔
کانگریس کے دور میں ہر روز ہوتے تھے دہشت گردانہ حملے: امت شاہ
انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس کے دور حکومت میں ہر روز دہشت گردانہ حملے ہوتے تھے۔ پاکستان نے پی ایم مودی کے دور میں تین بار ہندوستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ جب انھوں نے اُری میں کوشش کی تو سرجیکل اسٹرائیک کا سامنا کرنا پڑا۔ پلوامہ کے بعد ان پر ہوائی حملہ ہوا اور پہلگام کے بعد دہشت گردوں کے ہیڈکوارٹر کے ساتھ سنٹرل ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’ پی ایم مودی نے پورے پاکستان کو پیغام بھیجا کہ ہندوستان کا خون بہانے کے لیے نہیں ہے اور جو بھی ایسا کرنے کی ہمت کرے گا اسے سزا دی جائے گی۔‘‘ دریں اثنا 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کے خاتمے کے وعدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے امت شاہ نے مزید کہا کہ کس طرح پی ایم مودی کی قیادت میں 11 سال کے دوران نکسل ازم کا پھیلاؤ 11 سے زیادہ ریاستوں سے گھٹ کر صرف 3 اضلاع تک رہ گیا ہے۔
پی ایم مودی کے گیارہ سالوں میں ملک ہو گیا ہے محفوظ: وزیر داخلہ
انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی کے 11 سالوں میں ملک محفوظ ہو گیا ہے۔ ملک کی 11 ریاستوں میں نکسل ازم کا بول بالا تھا۔ پی ایم مودی کے ان گزشتہ 11 سالوں کے بعد اب صرف تین اضلاع میں نکسل ازم موجود ہے۔ میرے الفاظ کو مت بھولنا: 31.3.2026 تک یہ ملک نکسل ازم سے آزاد ہو جائے گا‘‘۔
واضح رہے کہ چھتیس گڑھ اور سرحدی علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں متعدد کارروائیوں میں بہت سے اہم نکسل لیڈروں کو مار گرایا ہے۔ 21 مئی کو بوٹر گاؤں کے جنگلات میں ایک انکاؤنٹر کے نتیجے میں 27 نکسلیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں دو سب سے ہائی پروفائل کیس سی پی آئی (ماؤسٹ) کے جنرل سکریٹری اور پولیٹ بیورو کے رکن بسواراجو عرف گگنا اور مرکزی کمیٹی کے رکن گوتم (عرف سدھاکر) اور بھاسکر کو مار گراناہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے دس سالوں یعنی 2014 اور 2024 کے درمیان نکسلی تشدد کے واقعات میں 53 فیصد کمی آئی ہے۔ اس سے پہلے 2004 اور 2014 کے درمیان نکسل تشدد کے 16,463 واقعات ہوئے تھے، تاہم 2014 سے 2024 تک یہ تعداد گھٹ کر 7,744 رہ گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…