قومی

Tesla not keen to manufacture in India: ٹرمپ کی دھمکی سے ڈر گئے ایلون مسک،ٹیسلا نے بھارت میں مینوفیکچرنگ کیلئے عدم دلچسپی کا کیا اظہار،مرکزی وزیر نے فیصلے کو بتایا مایوس کن

مرکزی وزیر برائے بھاری صنعت ایچ ڈی کمارسوامی نے اعلان کیا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا بھارت میں مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسلا فی الحال بھارت میں درآمد شدہ گاڑیاں فروخت کرنے اور ممبئی و دہلی جیسے شہروں میں شو رومز کھولنے پر توجہ دے رہی ہے۔ کمارسوامی کے مطابق، ٹیسلا بھارت-امریکہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے تحت اپنی گاڑیوں پر کم ڈیوٹی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے کوئی عزم ظاہر نہیں کیا۔ اس فیصلے سے بھارت کی ’میک ان انڈیا‘ مہم کو جھٹکا لگ سکتا ہے، کیونکہ حکومت مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔

بھارت کی نئی الیکٹرک گاڑی (ای وی) پالیسی کے تحت، جو مارچ 2025 میں متعارف کرائی گئی، غیر ملکی کمپنیوں کو 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پر 15 فیصد ڈیوٹی کی چھوٹ دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ تین سال کے اندر مقامی مینوفیکچرنگ شروع کریں۔ کمارسوامی نے بتایا کہ مرسڈیز بینز، ووکس ویگن-اسکوڈا، ہنڈائی، اور کیا جیسی عالمی کمپنیوں نے اس پالیسی کے تحت بھارت میں مینوفیکچرنگ کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تاہم، ٹیسلا نے اس پالیسی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے درآمد شدہ گاڑیوں کی فروخت پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کمارسوامی نے کہا کہ ایلون مسک سے ان کی بات چیت ہوئی، لیکن ٹیسلا نے مینوفیکچرنگ کے حوالے سے کوئی ٹھوس وعدہ نہیں کیا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بھارت عالمی ای وی مینوفیکچرنگ کے مرکز کے طور پر خود کو قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کمارسوامی نے زور دیا کہ حکومت ای وی شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور دیگر عالمی کمپنیوں کی دلچسپی سے بھارت کے ای وی ایکو سسٹم کو تقویت مل رہی ہے۔ تاہم، ٹیسلا کا فیصلہ مایوس کن ہے، کیونکہ اس کی مقامی مینوفیکچرنگ سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور صنعتی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع تھی۔ ٹیسلا کے اس موقف سے بھارت کی ای وی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ دیگر کمپنیاں مقامی پیداوار کے ذریعے مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کریں گی۔

اپوزیشن جماعتوں نے ٹیسلا کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور اسے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ ٹیسلا کا فیصلہ ’میک ان انڈیا‘ کے دعوؤں کی قلعی کھولتا ہے۔ دوسری جانب، حکومتی ذرائع نے کہا کہ بھارت کی ای وی پالیسی عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہے، اور ٹیسلا کے فیصلے سے مجموعی منصوبوں پر اثر نہیں پڑے گا۔ کمارسوامی نے مزید کہا کہ حکومت ای وی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گی، اور دیگر کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے بھارت عالمی ای وی مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Delhi-NCR Turns into a Gas Chamber: دہلی-این سی آر گیس چیمبر میں تبدیل، دیوالی کی رات تک مزید خراب ہوں گے حالات، اہم شہروں کا اے کیو آئی

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ہفتے کی شام پٹاخے پھوڑنے کا سلسلہ شروع ہونے…

13 minutes ago

Capital’s Pace Slows Amidst Diwali Festivities: دیوالی کی رونق میں دارالحکومت کی رفتار تھمی، دہلی سے نوئیڈا تک شدید ٹریفک جام

ٹریفک پولیس کی جانب سے اضافی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں اور بعض مقامات…

1 hour ago