قومی

Telangana Seeks Rs 5000 Crore: تلنگانہ کی مرکز سے ایس اے ایس سی آئی اسکیم کے تحت  اضافی 5 ہزار کروڑ روپے کی خصوصی مالی امداد منظور کرنے کی اپیل

تلنگانہ  کےنائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارک نے بدھ کے روز نئی دہلی میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے ملاقات کے دوران یہ درخواست کی۔محکمہ خزانہ سنبھالنے والے ملو بھٹی وکرمارک نے نرملا سیتا رمن کے ساتھ ریاست کی ترقی، تعلیمی ڈھانچے اور سرمایہ جاتی اخراجات سے متعلق کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

5 ہزار کروڑ روپے کی خصوصی مالی امداد منظور کرنے کی اپیل کی

ایک سرکاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ نے تلنگانہ کے لیے ایس اے ایس سی آئی کے تحت اضافی 5 ہزار کروڑ روپے کی خصوصی مالی امداد منظور کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے مرکزی وزیر خزانہ کو تعلیم، صحت، دیہی بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں ریاستی حکومت کی جانب سے کیے جا رہے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں اور فلاحی پروگراموں کے بارے میں آگاہ کیا۔

تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری

تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری، خاص طور پر ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکولز (وائی آئی آئی آر ایس) پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے محکمہ اقتصادی امور (ڈی ای اے) کی جانب سے منظور شدہ بیرونی امداد یافتہ منصوبوں (ای اے پی) کو ایف آر بی ایم حد سے مستثنیٰ قرار دینے کی اپیل کی۔گزشتہ سال ستمبر میں نرملا سیتا رمن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی وکرمارک نے ریاست کے 30 ہزار کروڑ روپے کے ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکولز پروگرام کے لیے خصوصی مالی امداد اور ایف آر بی ایم چھوٹ کا مطالبہ کیا تھا۔اس سلسلے میں وکرمارک کی قیادت میں ایک وفد نے یادداشت بھی پیش کی تھی۔

نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا تھا کہ 30 ہزار کروڑ روپے کی یہ پہل لاکھوں بچوں کی تعلیم اور غذائیت کے نظام میں بڑی تبدیلی لائے گی، محروم طبقات کو بااختیار بنائے گی اور بھارت کی آبادیاتی صلاحیت کو مضبوط کرے گی۔

زرعی وزیر تمّالا ناگیشور راؤ سمیت وفد نے مرکزی وزیر خزانہ سے اس طویل مدتی انسانی سرمایہ کاری کے لیے مالی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ (ایف آر بی ایم) ایکٹ کے تحت چھوٹ دینے کی درخواست کی تھی۔

نرملا سیتا رمن کو بتایا گیا یہ پروگرام

نرملا سیتا رمن کو بتایا گیا کہ یہ پروگرام طلبہ کو معیاری تعلیم اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ تلنگانہ کی زیادہ تر آبادی سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ ایس ای ای پی ای سی اعداد و شمار کے مطابق 56.33 فیصد آبادی پسماندہ طبقے، 17.43 فیصد درج فہرست ذاتوں اور 10.45 فیصد درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

1 hour ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

3 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

3 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

4 hours ago