مدورائی: تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ سی جوزف وجے نے پیر کے روز مدورائی کے گورنمنٹ راجاجی اسپتال میں ’تھائی مامن تھنگا موتھیرم‘ اسکیم کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ اسکیم ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں نافذ ہوگئی ہے۔ اسکیم کے تحت اہل نومولود بچوں کو ایک گرام وزن کی 22 قیراط سونے کی انگوٹھی دی جائے گی۔ ’تھائی مامن تھنگا موتھیرم‘ اسکیم کا مقصد سرکاری اسپتالوں اور سرکاری پرائمری ہیلتھ سینٹروں میں پیدا ہونے والے اہل بچوں کو سونے کی انگوٹھی فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم تمل ناڈو بھر میں نافذ کی جائے گی، تاہم مدورانتھکم اور دھاراپورم میں ضمنی انتخابات کے پیش نظر فی الحال اس کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔ تمل ناڈو کے وزیر ارون راج نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے وقت ماموں ان اولین افراد میں شامل ہوتا ہے جو اپنی بہن کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور اسے یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اس کے اور اس کے بچے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ وجے کی قیادت میں تمل ناڈو حکومت ماموں کے اس مقدس رشتے کو اپناتے ہوئے سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے ہر اہل بچے کو ایک گرام سونے کی انگوٹھی فراہم کر رہی ہے۔
مدورائی سے اسکیم کا آغاز
ارون راج نے کہا کہ جب اسکیم کے آغاز کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے کا سوال سامنے آیا تو وزیراعلیٰ نے مدورائی کو منتخب کیا۔ ان کے مطابق مدورائی کی یہ مقدس سرزمین ماں میناکشی کی شفقت اور کرپا سے مالا مال ہے۔ اس اسکیم کا مقصد اہل خاندانوں کے نومولود بچوں کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ماں اور بچے کی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
مستحقین کے لیے ضروری دستاویزات
ضلع انتظامیہ کے مطابق اسکیم کا فائدہ حاصل کرنے والوں کو ای-کے وائی سی سے تصدیق شدہ آدھار کارڈ کے ساتھ مقررہ شناختی یا رہائشی دستاویزات میں سے کوئی ایک پیش کرنا ہوگا۔ سونے کی انگوٹھیوں کی تقسیم کے دوران بھیڑ سے بچنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقررہ مراکز پر صبح کے وقت 25 اور دوپہر میں مزید 25 مستحقین کو انگوٹھی فراہم کی جائے گی۔ فائدہ اٹھانے والوں کو ان کی مقررہ تاریخ اور وقت کے بارے میں گاؤں کی ہیلتھ نرسوں کے ذریعے دعوت نامے فراہم کرکے مطلع کیا جائے گا۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دعوت نامے میں درج وقت پر ہی مقررہ مرکز پہنچیں۔
107 مراکز پر بقایا کیسز کی تقسیم
مقررہ تاریخ کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو سونے کی انگوٹھی اسی سرکاری اسپتال میں دی جائے گی جہاں ان کی پیدائش ہوئی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے مستحقین کو ان کے متعلقہ علاقوں سے مقررہ مراکز تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا ہے۔ ’تھائی مامن تھنگا موتھیرم‘ اسکیم کو ’ویتری تملگم‘ کے طویل مدتی وژن کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش کو خوشی کے ساتھ منانا، سرکاری صحت خدمات پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنا اور تمل ثقافتی روایت ’تھائی مامان سیر‘ کی عکاسی کرنا ہے۔ تمل ناڈو حکومت کے مطابق ہر سونے کی انگوٹھی پر منفرد سیریل نمبر درج ہوگا اور اسے چھیڑ چھاڑ سے محفوظ پیکیجنگ میں فراہم کیا جائے گا۔
پی آئی سی ایم ای رجسٹریشن لازمی
تمل ناڈو کی مستقل رہائشی وہ مائیں جو پریگنینسی اینڈ انفینٹ کوہورٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (PICME) کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور جنہوں نے ری پروڈکٹیو اینڈ چائلڈ ہیلتھ (RCH) آئی ڈی حاصل کی ہے، اس اسکیم کا فائدہ حاصل کرنے کی اہل ہوں گی۔ 22 جون سے اسکیم کے آغاز تک پیدا ہونے والے بچوں کے بقایا کیسز کو نمٹانے کے لیے ریاست بھر میں 107 مراکز کے ذریعے سونے کی انگوٹھیوں کی تقسیم کی جائے گی۔ ہر مرکز پر روزانہ 100 بچوں کو انگوٹھی فراہم کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
ڈسچارج کے وقت ہی ملے گی انگوٹھی
ریاستی حکومت کے مطابق اسکیم کے آغاز کے بعد سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو اسپتال سے ڈسچارج کے وقت ہی سونے کی انگوٹھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کا مقصد سرکاری طبی خدمات پر عوام کا اعتماد بڑھانا اور محفوظ ادارہ جاتی زچگی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سے ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کو بھی تقویت ملے گی اور بچوں کی بہبود کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایشین گیمز میں ایشا کا یہ تیسرا سلور میڈل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے…
ضلع اسپتال کی اینٹی ریبیز ویکسین او پی ڈی کے انچارج ڈاکٹر موہت بنسل نے…
سمستی پور: بہار کے سمستی پور ضلع کے محی الدین نگر میں ایک انتہائی نایاب…
سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی زبانوں کا…
کوریا کی سیونگ سویون کو 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں داخل ہونے…
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…