بنارس (وارانسی) کی ضلع جیل میں قید ڈاکٹر وینکٹیش کی دوران حراست موت نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ متوفی کی اہلیہ پرینکا نے جیل انتظامیہ اور جیل کے ڈاکٹر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو بروقت علاج اس لیے نہیں دیا گیا کیوں کہ انھوں نے جیلر کو دس ہزار روپے رشوت نہیں دی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر وینکٹیش کو 12 جون کو ضلع بلِیا کے بانسڈیہہ اسپتال میں وِجیلینس ٹیم نے مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد انھیں وارانسی کی ضلع جیل منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاری کے وقت انھوں نے صحت کی خرابی کی شکایت کی تھی اور بتایا کہ وہ شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں سے جوجھ رہے ہیں۔
میرے شوہر کا سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے: متوفی ڈاکٹر کی اہلیہ
ڈاکٹر وینکٹیش کی اہلیہ پرینکا کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دن یعنی 16 جون کو ان کے شوہر کی طبیعت بگڑ گئی۔ انھوں نے حکام سے بار بار درخواست کی کہ انھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے، لیکن رشوت نہ دینے کے باعث ان کی بات نہیں سنی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ’’وہ لوگ رشوت مانگ رہے تھے اور ہم رشوت نہیں دے پا رہے تھے۔ ہمارے پاس پیسہ نہیں تھا، اس لیے ہم رشوت نہیں دے سکے۔ جیلر اور جیل کے ڈاکٹر دونوں پیسہ مانگ رہے تھے۔۔۔۔میرا ماننا ہے کہ ایک سازش کے تحت اور جان بوجھ کر میرے شوہر کا قتل کیا گیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر وینکٹیش کو بعد ازاں کبیر چوراہا کے ضلعی اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دیا۔ اسپتال کے ڈاکٹر جیش مشرا کے مطابق ’’متوفی کو جب یہاں لایا گیا، تب تک وہ مر چکے تھے اور قانونی کارروائی کے بعد لاش کو مردہ خانے میں رکھوا دیا گیا۔‘‘ دریں اثنا متوفی کی اہلیہ پرینکا نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے جیل میں دوائیں پہنچائیں، مگر حکام نے یقین دہانی کے باوجود مناسب طبی امداد فراہم نہیں کی۔ اپنی بیوی سے ملاقات کے وقت ڈاکٹر وینکٹیش نے خود کہا تھا کہ ’’میں اب نہیں بچوں گا۔‘‘
ڈاکٹر وینکٹیش کو رشوت لینے کے جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا تھا: امریندر رائے
ایک مقامی شخص امریندر رائے نے بھی، جو ڈاکٹر وینکٹیش کو ذاتی طور پر جانتے تھے، ملاقات کے دوران ان کی بگڑتی ہوئی حالت کو بیان کرتے ہوئے کہا ’’ان کا چہرہ سرخ تھا، جیسے پان کھایا ہو اور وہ ٹھیک سے بیٹھ بھی نہیں پا رہے تھے۔‘‘ امریندر رائے کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر وینکٹیش کو جھوٹے رشوت کے کیس میں پھنسانے کی سازش کی گئی کیوں کہ وہ اپنے مریضوں کو سرکاری دوا کا استعمال کرنے کی ہدایت کرتے تھے، جس سے میڈیکل اسٹور مالکان ناراض تھے۔
دوسری طرف جیل انتظامیہ کا موقف ہے کہ قیدی کی طبیعت بگڑنے پر اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی موت ہو گئی۔ تاہم متوفی کی بیوی اور قریبی افراد کے الزامات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ یہ معاملہ اب انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور دیکھنا ہوگا کہ آیا ان الزامات پر کوئی غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…