بھارت ایکسپریس۔
پریم کورٹ نے یوپی، اتراکھنڈ اور راجستھان میں بلڈوزر کی حالیہ کارروائیوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ درخواست نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن نامی تنظیم نے عدالت میں دائر کی تھی۔ یوپی کے وکیل نے کہا کہ اس عرضی میں جس کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے وہ فٹ پاتھ کے آس پاس کی تعمیر پر کی گئی ہے۔ درخواست گزار این جی او کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اخبار پڑھنے کے بعد ہی عرضی دائر کی۔
جسٹس گاوائی کی سربراہی والی بنچ نے اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ کیس کے کسی بھی متاثرہ فریق کی درخواست کی سماعت کی جا سکتی ہے۔ اگر لوگ اخبارات پڑھ کر درخواستیں دائر کرنے والوں کو سننے لگیں تو مقدمات کا سیلاب آ جائے گا۔
پچھلے مہینے، سپریم کورٹ نے 17 ستمبر 2024 کو مسمار کرنے یعنی بلڈوزر کی کارروائی پر پابندی لگا دی تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف عوامی تجاوزات پر بلڈوزر کارروائی کی جائے گی۔ جمعیۃ علماء ہند نے اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں بلڈوزر کی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی جس کے بعد عدالت نے یہ بات کہی۔
سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے بہرائچ ضلع میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں بلڈوزر کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ بہرائچ تشدد کے ملزمین نے درخواست میں کہا تھا کہ یوپی حکومت کی بلڈوزر کارروائی آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ انتظامی افسران کی جانب سے پیشگی اطلاع اور مناسب وجہ کے بغیر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس بی آر گاوائی نے کہا کہ اگر اتر پردیش حکومت سپریم کورٹ کے حکم کو نہیں ماننا چاہتی ہے تو یہ ان کی مرضی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…