قومی

Delhi pollution crisis: دہلی-این سی آر میں خطرناک فضائی آلودگی پر سپریم کورٹ 17 دسمبر کرے گی سماعت

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں مسلسل بگڑتی ہوئی فضائی آلودگی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے سنجیدہ رخ اختیار کرتے ہوئے، اس سے متعلق دائر عرضیوں کی سماعت کے لیے 17 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ اس بار ایسے مؤثر اور قابل نفاذ احکامات جاری کیے جائیں گے، جن پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔پیر کے روز چیف جسٹس سوریکانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل  ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی ابتدائی سماعت کے دوران سینئر ایڈووکیٹ اپراجیتا سنگھ کی دلیلات پر غور کیا، جو اس کیس میں ایمکس کیوری (عدالت کی معاون) کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریکانت نے کہا کہ بعض ہدایات ایسی ہوتی ہیں جنہیں زبردستی نافذ کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بڑے شہروں میں رہنے والے لوگ شدید آلودگی کے باوجود اپنی طرز زندگی میں تبدیلی لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے غریبوں کا کیا ہوگا؟ ایمکس کیوری اپراجیتا سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ جب تک سپریم کورٹ کی جانب سے واضح ہدایات جاری نہیں ہوتیں، متعلقہ حکام پہلے سے موجود ضوابط پر بھی عمل نہیں کرتے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بدھ کے روز تین ججوں پر مشتمل بنچ اس معاملے کی باقاعدہ سماعت کرے گا۔ بچوں کی صحت سے متعلق ایک درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سابقہ احکامات کے باوجود اسکولوں میں اب بھی بیرونی کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ اپراجیتا سنگھ نے کہا کہ عدالت کے احکامات کے باوجود اسکول انتظامیہ نے ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے راستے نکال لیے ہیں، جو تشویشناک ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت مسئلے کی سنگینی سے بخوبی واقف ہے اور ایسے احکامات صادر کیے جائیں گے، جن پر عمل ممکن ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ شہری طبقہ اپنی سہولتوں سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا، لیکن آلودگی کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور مزدور طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے اس مسئلے کے قلیل مدتی اور طویل مدتی حل تلاش کرنے کے لیے مہینے میں دو بار سماعت کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ پیر کے روز سماعت کے وقت دہلی شدید دھند اور اسموگ کی لپیٹ میں تھی اور ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 498 تک پہنچ چکا تھا، جو ’انتہائی سنگین‘ زمرے میں آتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

7 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

8 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

8 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

8 hours ago