قومی

کیا اوکھلا کے مکانات ٹوٹنے سے بچ جائیں گے؟ سپریم کورٹ کیسے سماعت کے لئے ہوا راضی؟

نئی دہلی: دہلی کے جامعہ نگرعلاقے میں ان دنوں عوام کے درمیان ڈیمولیشن یا انہدامی کارروائی سے متعلق خوب بحث  یا چرچا ہو رہی ہے۔ ہرکوئی اس بات سے گھبرایا ہوا ہے کہ کہیں اس کا مکان یا دوکان اس زد میں نہ آجائے۔ کیونکہ جامعہ نگر کے کئی علاقوں میں اس طرح کی نوٹس لگائی گئی ہیں۔ حالانکہ الگ الگ نوٹس میں معاملہ مختلف طرح کا ہے، لیکن بات ہے ڈیمولیشن یا انہدامی کارروائی کی۔ اب یہ معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ جامعہ نگرعلاقہ کے اس معاملے کی سماعت کے لئے راضی بھی ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے عرضی گزاروں کو دہلی ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن عرضی گزاروں کے وکیل کے ذریعہ دی گئی دلیل کے بعد سپریم کورٹ راضی ہوگیا۔ بٹلہ ہاوس میں جن جائیدادوں کوخطرہ لاحق ہے، ان میں مکان سے لے کر دکان تک شامل ہیں۔ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے اسے غیرقانونی بتایا ہے۔ ایسے میں چیف جسٹس بی آرگوئی اوراے جی مسیح کی بنچ معاملے کوسننے کے لئے راضی ہوگئی ہے اوروہ اگلے ہفتے اس معاملے کی سماعت ہوگی۔

آئیے سب سے پہلے آپ کو بتاتے ہیں کہ پورا معاملہ کیا ہے اور عرضی گزاروں نے عدالت میں کیا کیا دلیلیں دی ہیں۔اس کے خلاف کئی وکیل سپریم کورٹ پہنچے۔ ان کی دلیل تھی کہ سپریم کورٹ کا ہی حکم ہے کہ اس طرح کے معاملوں میں کوئی بھی کارروائی سے پہلے کم ازکم 15 دنوں کا نوٹس جاری ہو۔ لیکن جامعہ اور اوکھلا کے خلاف ڈی ڈی اے نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے 26 مئی کو نوٹس جاری کرکے سیدھے علاقے کو خالی کرنے کی بات کہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے خسرہ نمبر 279 سے متعلق اپنا حکم دیا تھا، لیکن ڈی ڈی اے نے خسرہ نمبر 279 کے علاوہ 281 سے 285 تک کو بھی شامل کرلیا ہے۔  سپریم کورٹ پہنچے وکیلوں نے یہ بھی کہا کہ  ڈی ڈی اے نے ان کو بالکل بھی نہیں سنا، اس لئے انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اگلے ہفتے سماعت کی تاریخ طے کردی ہے۔

ڈی ڈی اے کی دلیل ہے کہ وہاں موجود سبھی گھریوپی ایرگیشن یا اترپردیش سینچائی محکمہ کی زمین پر تعمیر کئے گئے ہیں۔ اب اگر ڈی ڈی اے کی نوٹس کی بات کی جائے تواس نوٹس میں واضح طورپرلکھا ہوا ملا کہ سبھی کومطلع کیا جاتا ہے کہ اوکھلا میں انکروچمنٹ ہورکھا ہے۔ یہاں خضربابا کالونی اترپردیش حکومت کے سنچائی محکمہ کی زمین پرہے۔ یہاں موجود گھراوردوکان دونوں غیرقانونی ہیں اوران کو 15 دنوں کے اندرخالی کرنا ہوگا۔ ڈی ڈی اے کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ذریعہ  8 مئی کے حکم کی بنیاد پرلیا گیا فیصلہ مانا جا رہا ہے۔ جہاں ڈی ڈی اے کو اوکھلا گاؤں میں موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Harmanpreet Kaur: ہرمن پریت کور نے بھارتی ویمنز ٹیم کی کپتانی چھوڑی، بطور کھلاڑی سفر جاری رکھنے کا اعلان

ہرمن پریت نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے تمام…

6 minutes ago

Rahul Gandhi Waves Tricolor Climbing on Barricade: بیریکیڈ پر چڑھے راہل گاندھی، لہرایا ترنگا؛ الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

انڈیا اتحاد کے اس احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…

30 minutes ago

Rahul Gandhi: ’ہمارے ملک کے ساتھ جو کیا گیا، وہ غداری ہے، کوئی بھی بچ نہیں پائے گا‘، آکاشوانی کے اندر سے راہل گاندھی کا بڑا بیان

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’انڈیا‘ بلاک کے تقریباً 300…

31 minutes ago

Protest in Delhi: راہل گاندھی کا الگ ہی انداز ہے ، اکھلیش حراست میں، الیکشن کمیشن کے دفتر پر اپوزیشن کا زبردست احتجاج

پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھ رہے اپوزیشن کے مارچ کو…

57 minutes ago

Francis Halzen Awarded Nobel Prize in Physics: فرانسس ہالزن کو فزکس کا نوبیل انعام، کائنات کے پراسرار ذرات کی دریافت پر اعزاز

نوبیل انعام کے فاتحین کو دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اعزاز سے…

1 hour ago

Rahul Gandhi: آکاشوانی بھون میں 2 گھنٹے سے دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، بولے- ہمیں کیوں روکا؟

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن…

2 hours ago