قومی

Supreme Court: ’’شہریوں کی جان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری‘‘ سپریم کورٹ نے محفوظ سڑک سفر کے حق کو زندگی کا بنیادی حق قرار دیا

نئی دہلی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں محفوظ سڑک سفر کے حق کو آئین کے تحت زندگی کے بنیادی حق کا حصہ قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ملک بھر میں سڑک حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے جامع ہدایات جاری کی گئی ہیں۔جسٹس جے کے مہیشوری  اور جسٹس اے ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے 13 اپریل کے اپنے حکم میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت “حقِ زندگی” صرف غیر قانونی طور پر جان لینے کے خلاف تحفظ تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک محفوظ ماحول کی فراہمی بھی شامل ہے، جہاں انسانی جان کی قدر کی جائے اور اسے محفوظ رکھا جائے۔

عدالت نے کہا کہ شاہراہوں پر ہونے والی قابل تدارک حادثاتی اموات ریاست کی اس آئینی ذمہ داری کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ بنچ کے مطابق، انتظامی یا مالی مشکلات کو عوامی تحفظ یقینی بنانے میں ناکامی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے سخت الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی معاشی یا انتظامی رکاوٹ انسانی جان کی حرمت سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتی۔عدالت عظمیٰ نے ہدایت دی کہ قومی شاہراہوں کے “رائٹ آف وے” کے اندر کسی بھی نئے ڈھابے، ریستوران یا تجارتی ڈھانچے کی تعمیر یا آپریشن پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ ساتھ ہی تمام غیر قانونی تعمیرات کو 60 دن کے اندر ہٹانے یا منہدم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کی ذمہ داری ضلعی مجسٹریٹس کو سونپی گئی ہے۔فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کوئی بھی بھاری یا کمرشل گاڑی قومی شاہراہ کے کیریج وے یا پکے شولڈر پر پارک یا کھڑی نہیں کی جا سکتی، سوائے مخصوص پارکنگ بے یا منظور شدہ مقامات کے۔ نیشنل ہائی ویز، ریاستی پولیس اور ٹرانسپورٹ محکموں کو ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کا پابند کیا گیا ہے۔عدالت نے جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے قیام پر بھی زور دیا، جس میں سی سی ٹی وی کیمرے، اسپیڈ ڈٹیکٹرز، ایمرجنسی رسپانس سسٹم، ٹرک پارکنگ زونز، ایکسیڈنٹ زون کی نشاندہی اور مناسب روشنی کا انتظام شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ سڑک حفاظت کے لیے باقاعدہ نگرانی، گشت اور بین الادارہ ہم آہنگی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے احکامات کی نقول تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز اور ڈی جی پیز کو فوری عمل درآمد کے لیے بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے دو ماہ بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت مقرر کی ہے تاکہ عمل درآمد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ معاملہ گزشتہ سال راجستھان اور تلنگانہ میں پیش آنے والے مہلک سڑک حادثات کے بعد از خود نوٹس لیتے ہوئے شروع کیا گیا تھا، جن میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ عدالت کے اس فیصلے کو سڑک حفاظت کے میدان میں ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

6 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

6 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

6 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

6 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

7 hours ago