قومی

Supreme Court’s decision on appointment of Election Commission: الیکشن کمشنروں کی تقرری سی بی آئی چیف کی طرز پر ہو، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

Supreme Court’s decision appointment Election Commission to be done by committee:  الیکشن کمیشن میں اعلیٰ تقرریوں پرسپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنراورالیکشن کمشنروں کی تقرری اب وزیراعظم، چیف جسٹس اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی تین رکنی کمیٹی کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمشنروں کی تقرری سی بی آئی چیف کی طرز پر کی جائے۔

سپریم کورٹ کی 5 ججوں کی بینچ نے 0-5 کے اتفاق رائے سے دیئے گئے فیصلے میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اورالیکشن کمشنروں کا انتخاب تین رکنی کمیٹی کے مشورے پرصدر جمہوریہ کریں گے۔ جسٹس کے ایم جوسف کی صدارت والی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے، یہ ضابطہ تب تک جاری رہے گا، جب تک پارلیمنٹ ان تقرریوں کے لئے قانون نہیں بناتا ہے۔

جمہوریت میں بھروسہ بنا رہنا ضروری

جسٹس کے ایم جوسف کی صدارت والی 5 ججوں کی آئینی بینچ نے کہا ہے کہ جمہوریت میں لوگوں کا بھروسہ بنا رہنا ضروری ہے۔ ایسا تبھی ہوسکتا ہے، جب الیکشن کمیشن کا کام کاج انہیں قابل بھروسہ لگے۔ بینچ کے باقی 4 اراکین تھے۔ جسٹس اے رستوگی، انرودھ بوس، رشی کیش رائے اور سی ٹی روی کمار۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے دوران بھی حکومت کی طرف سے الیکشن کمشنروں کی تقرری کو غلط بتایا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر ایک ایسا شخص بیٹھا ہونا چاہئے جو اگر ضرورت پڑے، تو وزیراعظم کے اوپر کارروائی کرنے میں بھی ہچکچائے نہیں۔

24 نومبر کو آئینی بینچ نے معاملے میں داخل 4 عرضیوں پر حکم محفوظ رکھا تھا۔ یہ عرضیاں انوپ برنوال، اشونی اپادھیائے، ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اور جیا ٹھاکر کی تھیں۔ ان عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں کی تقرری کا نظام شفاف ہونا چاہئے۔ الیکشن کمیشن کو معاشی خودمختاری ملنی چاہئے اور چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے لئے جو عمل ہے، وہی الیکشن کمشنروں پر بھی نافذ کیا جانا چاہئے۔

کمیشن کو ملے معاشی خود مختاری: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو معاشی خود مختاری دینے اور الیکشن کمیشن کے لئے الگ سے سکریٹریٹ بنائے جانے کا مطالبہ کو بھی صحیح قرار دیا۔ ججوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام کاج اقتدار میں بیٹھی پارٹی کے بھروسے نہیں چل سکتا۔ اسے ملک کے کنسولیڈیٹیڈ فنڈ میں سے رقم الاٹ کیا جانا چاہئے تاکہ وہ خود مختار اور آزادانہ طور پر کام کرسکیں۔ حالانکہ عدالت نے الیکشن کمیشن کے لئے الگ سکریٹریٹ کی تشکیل اور معاشی خودی مختاری پر راست طور پر کوئی حکم نہیں دیا۔ عدالت نے حکومت اور پارلیمنٹ سے گزارش کی کہ وہ اس پر قانون بنائیں۔

  -بھارت ایکسپریس

Nisar Ahmad

Recent Posts

Lucknow & Andaman Islands are symbols of courage: لکھنؤ اور انڈمان برطانوی اقتدار کے خلاف جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی علامت: ڈاکٹر دنیش شرما

سیلولر جیل آزادی کے متوالوں پر ہونے والے ظلم، اذیت اور ان کی قربانیوں کی…

16 minutes ago

President’s Police Colour: وزیرداخلہ امت شاہ نے اتراکھنڈ پولیس کو باوقار ’صدرجمہوریہ پولیس کلر‘ اعزاز سے نوازا

امت شاہ نے کہا ہے کہ میں دیوبھومی کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں…

2 hours ago

Sharad Pawar-Praful Patel Meeting: شرد پوار-پرفل پٹیل کی ملاقات سے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل، کیا دونوں این سی پی پھر آئیں گی ایک ساتھ؟

اجیت پوارکے انتقال سے پہلے اجیت پوارگروپ اوراین سی پی-شرد چندرپوارکے لیڈران کے درمیان انضمام…

2 hours ago

Setback for Sonia Gandhi: سونیا گاندھی کی مشکلات میں اضافہ، ووٹر لسٹ معاملے میں مجسٹریٹ کا حکم منسوخ، نظرثانی کے لیے عرضی منظور

دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے شکایت کنندہ کو اضافی دستاویزات داخل کرنے کی اجازت…

3 hours ago