ممبئی: کانگریس کے سینئر رہنما حسین دلوئی نے این سی ای آر ٹی کی نئی نصابی کتابوں میں ایمرجنسی سے متعلق ابواب شامل کیے جانے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ طلبہ کو ہندوتوا نظریے کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے حسین دلوئی نے کہا کہ وہ ایمرجنسی کی حمایت نہیں کرتے، لیکن تاریخ کو یک طرفہ نقطۂ نظر سے پیش کرنا بھی درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں ایمرجنسی کی حمایت نہیں کرتا، لیکن طلبہ کو ہندوتوا کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے، جس سے اس ملک کی تباہی ہونے والی ہے۔ ملک کا ماحول پاکستان اور بنگلہ دیش جیسا بنتا جا رہا ہے، جو بالکل غلط ہے۔ اس ملک کی اپنی تہذیب اور شناخت تھی، دنیا بھر میں اس کا ایک مقام تھا، لیکن اب ان تمام چیزوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔‘‘
صحافیوں سے مبینہ بدسلوکی اور سیاسی معاملات پر تبصرہ
حسین دلوئی نے رکن پارلیمنٹ سنجے دینا پاٹل پر صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنے طرزِ عمل میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ عوام کے نمائندے ہوتے ہیں اور انہیں صحافیوں سمیت تمام شہریوں کے ساتھ احترام کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ اگر کسی عوامی نمائندے نے توہین آمیز زبان استعمال کی ہے تو اس پر تنقید ہونی چاہیے اور جمہوری اقدار کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے ان ارکانِ پارلیمنٹ کے معاملے پر بھی تبصرہ کیا جنہوں نے مختلف سیاسی مؤقف اختیار کیا ہے۔ دلوئی نے الزام لگایا کہ قانون اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی تعلق نہیں رہ گیا ہے اور دعویٰ کیا کہ وزیراعظم اور مرکزی وزیر داخلہ جو کہیں گے، اسپیکر اسی کے مطابق عمل کریں گے، جو ان کے بقول جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ
حسین دلوئی نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو اور ان کے خاندان پر زمین کی خریداری سے متعلق الزامات کے معاملے میں غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔ دلوئی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس میں اس نوعیت کے معاملات پر سخت کارروائی کی جاتی رہی ہے اور سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان کو بھی ایک فلیٹ کے معاملے میں عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض افراد کو پہلے سے معلوم تھا کہ کن علاقوں میں ترقیاتی منصوبے آنے والے ہیں، اسی بنیاد پر زمین خرید کر مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کو استعفیٰ دینا چاہیے اور اگر بھارتیہ جنتا پارٹی میں ذرا بھی اخلاقی احساس ہے تو انہیں عہدے سے ہٹانا چاہیے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو بھی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مؤثر طریقے سے انتظامیہ نہیں چلا سکتے، انہیں اقتدار میں برقرار رکھنا مناسب نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…
ٹک ٹاک کی بنیادی کمپنی بائٹ ڈانس کے بانی ژانگ یِمنگ ایشیا کے امیر ترین…
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…