نئی دہلی: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم نے جمعرات کو دنیا کی پہلی سب-1 نینو میٹر (0.7 نینو میٹر) چِپ ٹیکنالوجی متعارف کرائی، جسے سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ روایتی چپ ٹیکنالوجی اپنی طبعی حدود کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ نئی چِپ 0.7 نینو میٹر (7 اینگسٹروم) پروسیس نوڈ پر مبنی ہے اور اس میں ’’نینو اسٹیک‘‘ نامی نئی سہ جہتی (3D) ٹرانزسٹر آرکیٹیکچر استعمال کی گئی ہے، جو انتہائی چھوٹے پیمانے پر بھی اعلیٰ کارکردگی اور بہتر توانائی کی بچت فراہم کرتی ہے۔
100 ارب ٹرانزسٹر، بہتر رفتار اور کم توانائی کا استعمال
آئی بی ایم نے بتایا کہ اس نئی چِپ میں تقریباً 100 ارب ٹرانزسٹر نصب کیے گئے ہیں، جبکہ اس کا حجم ایک عام ناخن کے برابر ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی 2021 میں متعارف کرائی گئی 2 نینو میٹر چِپ کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ٹرانزسٹر کثافت فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ 2 نینو میٹر چِپس کے مقابلے میں 50 فیصد تک بہتر کارکردگی یا 70 فیصد زیادہ توانائی کی بچت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آئی بی ایم ریسرچ کے ڈائریکٹر اور آئی بی ایم فیلو جے گیمبیٹا نے کہا کہ یہ کامیابی کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے کمپیوٹنگ کو نینو میٹر دور سے آگے بڑھا کر ایٹمی سطح تک لے جانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے لیے نئی راہیں
کمپنی کے مطابق ’’نینو اسٹیک‘‘ آرکیٹیکچر میں ٹرانزسٹروں کو مختلف تہوں میں ایک دوسرے کے اوپر ترتیب دیا جاتا ہے، جس سے ایک ہی چِپ پر زیادہ تعداد میں ٹرانزسٹر نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس طریقۂ کار سے مختلف مواد کو الگ الگ بہتر بنایا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں رفتار اور توانائی کی کارکردگی دونوں میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ آئی بی ایم کے محققین نے یہ بھی بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی ایس آر اے ایم (SRAM) کی اسکیلنگ کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے مستقبل میں ایسے زیادہ طاقتور اور کم توانائی استعمال کرنے والے پروسیسر تیار کیے جا سکیں گے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی بھاری ڈیٹا پروسیسنگ اور ہائی بینڈوِڈتھ ورک لوڈز کو مؤثر انداز میں سنبھال سکیں۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا پہلا تجارتی استعمال آئندہ پانچ برس کے اندر شروع ہو سکتا ہے۔
ریسرچ سینٹر میں عالمی اداروں کا تعاون
آئی بی ایم کے مطابق یہ تحقیق البانی، نیویارک میں واقع اس کے سیمی کنڈکٹر ریسرچ سینٹر میں انجام دی گئی۔ اس منصوبے میں اے ایس ایم ایل (ASML)، لیم ریسرچ (Lam Research)، ٹوکیو الیکٹرون (Tokyo Electron) اور اسکرین سیمی کنڈکٹر سولیوشنز (SCREEN Semiconductor Solutions) سمیت کئی عالمی کمپنیوں نے بھی تعاون کیا۔ ماہرین کے مطابق آئی بی ایم کی یہ نئی ٹیکنالوجی آئندہ برسوں میں چِپ سازی کی صنعت کا رخ بدل سکتی ہے اور اس کے ذریعے زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور توانائی کی بچت کرنے والے مصنوعی ذہانت کے نظام، کلاؤڈ سرورز اور جدید اسمارٹ الیکٹرانک آلات تیار کرنا ممکن ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…
ٹک ٹاک کی بنیادی کمپنی بائٹ ڈانس کے بانی ژانگ یِمنگ ایشیا کے امیر ترین…
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…