بین الاقوامی

Faceless Trial: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی عمر قید پر انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش، فریبہ بلوچ نے مقدمے کو بتایا غیر منصفانہ

لندن: انسانی حقوق کی کارکن فریبہ بلوچ نے بلوچ کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے دیگر ارکان کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان میں انسانی حقوق، انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ ایک ویڈیو بیان میں فریبہ بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کے حقوق کے لیے کئی برسوں سے پرامن انداز میں آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ماہ رنگ ایک معالج ہیں اور انہیں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کردار کی وجہ سے عالمی سطح پر بھی شناخت حاصل ہوئی۔ ان کا نام بی بی سی کی 100 ویمن فہرست اور ٹائم 100 نیکسٹ کی ابھرتے عالمی رہنماؤں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے، جبکہ انہیں نوبیل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

’’بے چہرہ ٹرائل‘‘ اور منصفانہ سماعت پر سوالات

فریبہ بلوچ نے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وقار اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والی ایک عالمی سطح کی کارکن کو عمر قید کی سزا سنایا جانا تشویشناک ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک اور رکن صبغت اللہ بلوچ کو پاکستانی انسداد دہشت گردی عدالت نے من گھڑت الزامات کی بنیاد پر ایک ایسے مقدمے میں سزا سنائی جسے انہوں نے ’’بے چہرہ ٹرائل‘‘ (Faceless Trial) قرار دیا۔ فریبہ بلوچ کے مطابق اس فیصلے سے ان تمام پرامن کارکنوں کو منفی پیغام جاتا ہے جو جبری گمشدگیوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں کو سزائیں دی جا رہی ہیں، وہیں مبینہ خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد احتساب سے محفوظ ہیں۔

عالمی برادری سے اظہار یکجہتی کی اپیل

فریبہ بلوچ نے اس فیصلے پر بعض سرکاری عہدیداروں کی جانب سے اظہار مسرت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے ردِعمل انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے احترام کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد انسانی حقوق کے کارکنوں کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی منصفانہ ٹرائل کے بین الاقوامی معیارات پر پوری نہیں اترتی اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ فریبہ بلوچ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں پرامن انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے متعلق وسیع تر خدشات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، سول سوسائٹی اور انصاف، انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کے حامی تمام افراد سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر پرامن کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کی اپیل کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

From Teesta to Trishuli: تیستا سے تریشولی تک: ہمالیائی پن بجلی کے لیے موسمیاتی حقائق کا جائزہ کیوں ضروری ہے؟

صرف بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت اور منصوبوں کے اعداد و شمار کافی…

17 minutes ago

’Meaning of ‘Inquilab Zindabad: انقلاب زندہ باد آج بھی کیوں گونجتا ہے؟ سڑکوں پر کیا ہو رہا ہے اور لوگ آخر کہنا کیا چاہتے ہیں؟

انقلاب زندہ باد کا اصل مطلب کیا ہے؟ بھگت سنگھ کے خیالات سے نکلا یہ…

30 minutes ago

Bihar Boat Accident: وزیراعظم مودی نے راگھوپور کشتی حادثے پر دکھ کا کیا اظہار، کہا، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں

بہار کے ضلع ویشالی کے راگھوپور میں کشتی حادثے نے کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین…

49 minutes ago

Meerut Blue Drum Murder Case: میرٹھ کے نیلے ڈرم قتل معاملے میں عدالت کا بڑا فیصلہ، ساحل اور مسکان کو پھانسی کی سزا

میرٹھ کے مشہور سوربھ راجپوت قتل معاملے میں عدالت نے مسکان رستوگی اور اس کے…

2 hours ago