نئی دہلی/ہریدوار: بھارت ماتا مندر کے بانی، شنکرآچاریہ روایت کے عظیم المرتبت مہاپُرش، عظیم مفکر اور تپسیا میں مشغول برہم لین سنت سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج کے شری وِگراہ (مورتی) کی تنصیب کی شاندار تقریب حال ہی میں انتہائی روحانی، تقدس آمیز اور پرشکوہ ماحول میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ملک بھر کے معزز سنتوں، مذہبی رہنماؤں اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کر کے تقریب کو یادگار بنا دیا۔ یہ پروگرام پوجیہ سوامی اودھیشانند جی مہاراج کے پاکیزہ اور روحانی سائے میں منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں اور خاص مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب کو ایک ’ویرات‘ مذہبی و روحانی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روحانیت، عقیدت اور قومی اقدار کی حسین جھلک نظر آئی۔ آچاریہ پرمود کرشنم نے اپنے ایکس ہینڈل پر یہ خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
ملک کے سرکردہ سنتوں اور رہنماؤں کی شرکت
اس روح پرور تقریب میں ملک کی کئی ممتاز مذہبی اور عوامی شخصیات نے شرکت کی، جن میں یوگ گرو سوامی رام دیو، سوامی بالکانند، اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، بہار کے گورنر عارف محمد خان، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور سینئر آئی پی ایس افسر آلوک کمار شامل ہیں۔ ان معزز افراد کی موجودگی نے اس تقریب کو نہ صرف روحانی وقار بخشا بلکہ اسے قومی سطح کا ایک یادگار مذہبی اجتماع بنا دیا۔ شرکا نے سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں روحانیت، قوم پرستی اور ثقافتی بیداری کا عظیم علمبردار قرار دیا۔
سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج: ایک عظیم روحانی ورثہ
سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج کو بھارت ماتا مندر کے بانی کے طور پر خصوصی شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی روحانیت، تپسیا، خدمتِ خلق اور قومی شعور کی بیداری کے لیے وقف کر دی۔ ان کا مقصد صرف مذہبی تعلیمات کی اشاعت ہی نہیں تھا بلکہ قوم کو ایک مضبوط اخلاقی اور روحانی بنیاد فراہم کرنا بھی تھا۔ ان کے افکار اور تعلیمات آج بھی لاکھوں افراد کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مورتی کی تنصیب کی یہ تقریب اسی عظیم ورثے کو زندہ رکھنے کی ایک بامعنی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
روحانیت اور قومی یکجہتی کا مظہر
تقریب کے دوران بھجن، منتر، ویدک دعائیں اور مذہبی خطابات پیش کیے گئے، جنہوں نے پورے ماحول کو روحانی سرشاری سے بھر دیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج کی زندگی قوم کی فکری اور روحانی تعمیر کا عملی نمونہ ہے اور ان کی تعلیمات آج کے دور میں مزید زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ سوامی اودھیشانند جی مہاراج نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسی تقریبات نئی نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے اور روحانی اقدار کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
تقریب میں شریک معزز شخصیات نے اسے اپنے لیے باعث سعادت قرار دیا اور کہا کہ ایسے روحانی اجتماعات میں شرکت انسان کے باطن کو سکون اور زندگی کو نئی سمت عطا کرتی ہے۔ شرکا نے سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج کی تعلیمات کو آج کے معاشرتی مسائل کا مؤثر حل قرار دیا۔ سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج کے شری وِگراہ کی تنصیب کی یہ تقریب نہ صرف ایک مذہبی اجتماع تھی بلکہ یہ روحانیت، قومی یکجہتی اور تہذیبی بیداری کا ایک عظیم مظہر بھی ثابت ہوئی، جس نے شرکا کے دلوں میں عقیدت، فخر اور سکون کی نئی کیفیت پیدا کر دی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…