نئی دہلی/شیلانگ: میگھالیہ کے ضلع ایسٹ جینتیا ہلز کے تھانگسکائی علاقے میں واقع ایک مشتبہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکے کے نتیجے میں پیش آئے المناک حادثے پر وزیراعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے 16 مزدوروں کے اہل خانہ کو فی کس 2 لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو 50 ہزار روپے فی کس مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعظم دفتر (PMO) کے مطابق یہ امدادی رقم وزیر اعظم قومی امدادی فنڈ (PMNRF) سے دی جائے گی۔
وزیراعظم کا اظہار تعزیت
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا: ’’میگھالیہ کے ایسٹ جینتیا ہلز میں پیش آئے حادثے سے بے حد دکھی ہوں۔ جن خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، ان سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ ہر جاں بحق کے اہل خانہ کو وزیر اعظم قومی امدادی فنڈ سے 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔‘‘
ریاستی حکومت کی کارروائی، تحقیقات کا حکم
اس سے قبل میگھالیہ کے وزیراعلیٰ کونارڈ کے سنگما نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جامع جانچ کے احکامات جاری کیے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے کے لیے ذمہ داری طے کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا: ’’ایسٹ جینتیا ہلز میں پیش آئے اس افسوسناک کان حادثے سے دل دہل گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ میری دلی ہمدردیاں ہیں۔ ریاستی حکومت نے واقعے کی مکمل جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ انسانی جانوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘‘
ریسکیو آپریشن جاری، این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں تعینات
حادثے کے فوراً بعد اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF)، مقامی پولیس اور انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ امدادی کارروائی کو مزید تیز کرنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) کی تین ٹیمیں بھی موقع پر تعینات کر دی گئی ہیں۔ ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) وکاس کمار کے مطابق اب تک 16 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ ایک شخص شدید جھلسنے کے باعث زخمی ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد مزدوروں کے اب بھی کان میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
غیر قانونی ریٹ ہول کان کنی پر سوالات
یہ حادثہ ایک بار پھر میگھالیہ میں جاری غیر قانونی ریٹ ہول کان کنی کے مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ریٹ ہول کان کنی کو اس کی خطرناک نوعیت کے باعث سپریم کورٹ اور نیشنل گرین ٹریبونل کی جانب سے ممنوع قرار دیا جا چکا ہے، اس کے باوجود ریاست کے کچھ علاقوں میں یہ سرگرمی بدستور جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرز کی کان کنی میں ہوا کی ناقص نکاسی، زہریلی گیسوں کے اخراج اور اچانک دھماکوں کا شدید خطرہ ہوتا ہے، جس کے سبب مزدوروں کی جانیں ہر وقت داؤ پر لگی رہتی ہیں۔ حادثے کی خبر کے بعد علاقے میں سوگ کا ماحول ہے۔ جاں بحق مزدوروں کے اہل خانہ جائے وقوعہ اور اسپتالوں کے باہر جمع ہیں، جہاں ہر طرف غم و اندوہ اور آہ و بکا کا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…