قومی

Akhilesh Yadav Reacts Over Om Prakash Rajbhar: ’جو ڈر جائے گا، وہ بھاگ جائے گا‘، یوپی وزیر کے ’ایس پی  ٹوٹے گی‘ دعوے پر اکھلیش یادو کا کرارا جواب

اتر پردیش کی سیاست میں ایک بار پھر بیان بازی کا دور شروع ہو گیا ہے اور اس بار نشانے پر سماجوادی پارٹی (سپا) ہے۔ یوپی حکومت میں کابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر نے بدھ کو یہ دعویٰ کرکے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی کہ سماجوادی پارٹی میں بھی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی طرح بڑی پھوٹ پڑنے والی ہے۔ اس دعوے پر سپا سربراہ اکھلیش یادو اور پارٹی کے سینئر لیڈر رام گوپال یادو نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

راج بھر نے کیا یہ دعویٰ

این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پنچایتی راج اور اقلیتی بہبود کے وزیر اوم پرکاش راج بھر نے اپنے دعوے کو ’سو فیصد درست‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر رام گوپال یادو نے ایک فہرست تیار کرکے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو سونپی ہے۔ راج بھر نے کہا، ’’میں نے امت شاہ اور رام گوپال یادو دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھی ہے۔ جب دو دل ملتے ہیں تو الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں، مگر بات چیت مکمل ہو جاتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس مبینہ خفیہ خط میں کہا گیا ہے کہ فہرست میں شامل لیڈرؤں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے اور بدلے میں وہ بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

اکھلیش یادو کا پلٹ وار

راج بھر کے اس دعوے پر اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ’’آخر یہ کہانی کب تک چلتی رہے گی؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی دوسری جماعتوں کو توڑنے کی سیاست کرتی ہے۔اکھلیش یادو نے کہا، ’’بی جے پی کا یہی طریقہ کار ہے۔ وہ دوسری پارٹیوں کو توڑتی ہے۔ اس سے پہلے بھی ہمارے کئی ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کو توڑا جا چکا ہے۔‘‘انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا، ’’جو لوگ ڈر جائیں گے، وہ پارٹی چھوڑ کر چلے جائیں گے، لیکن ہمیں بی جے پی کے خلاف مضبوطی سے لڑنے کے لیے صرف بہادر لوگوں کی ضرورت ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

11 hours ago