ایویان: وزیر اعظم نریندر مودی نے جی 7 سمٹ میں عالمی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے ایندھن، کھاد اور غذائی اشیاء کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کے طویل مدتی اثرات عالمی جنوب کے ممالک پر مرتب ہوں گے۔
متوازن اور پائیدار ترقی پر زور
فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے آؤٹ ریچ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ متوازن، مشترکہ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترقی کا اصل پیمانہ صرف مجموعی قومی پیداوار نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ترقی کس کے لیے، کن کے ساتھ اور کس سمت میں ہو رہی ہے۔
بھارت کی ترقی کا ماڈل
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی ترقی کا سفر شمولیت، وسیع پیمانے پر عوامی شرکت اور جمہوری بااختیاری پر مبنی ہے، جو ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘‘ کے اصول سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی سوچ بھارت کی جی 20 صدارت اور بھارت-مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری جیسی پہلوں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور ایسے حالات میں کمزور ممالک کو ان معاشی جھٹکوں کا بوجھ تنہا نہیں اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو معاشی بحرانوں اور بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط امدادی نظام تیار کریں۔
افرادی قوت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مسئلے سے دوچار ہیں، جبکہ بھارت اور عالمی جنوب کے دیگر ممالک کے پاس نوجوان صلاحیتوں اور مہارت یافتہ افرادی قوت کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ’’عالمی مہارتی شراکت داری‘‘ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس توازن سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
تجارت کے لیے نئی شراکت داری کی تجویز
وزیر اعظم مودی نے تجویز پیش کی کہ جی 7 ممالک کے سرمایہ، بھارت کی صلاحیتوں اور عالمی جنوب کے ممالک کی شمولیت کو یکجا کرتے ہوئے رابطوں اور تجارت کو تیز رفتار بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی شراکت داری قائم کی جا سکتی ہے، جسے ’’رابطہ اور تجارت کے فروغ کے لیے بین الاقوامی متحرک شراکت داری‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔
عالمی لیڈران سے ملاقاتیں
اجلاس کے سیشن سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے متعدد عالمی لیڈران سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان میں اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی، برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، برازیل کے صدر لولا دا سلوا، جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا شامل تھیں۔
بھارت ایکسپریس۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…