جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی کے کنونشن سینٹر میں چھٹے ہمالیہ–ہند بحرِ ہند ممالک گروپ بین الاقوامی کانفرنس 2026 کا شاندار اور پروقار افتتاح عمل میں آیا۔اس کانفرنس کا انعقاد سینٹر آف رشین اسٹڈیز (CRS)، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز (SLL&CS)، انٹر ہال ایڈمنسٹریشن (IHA)، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی؛ نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ اور سینٹر فار ہمالین اسٹڈیز، دہلی یونیورسٹی کے تعاون سے کیا گیا ہے۔
“ہند بحرِ ہند خطے میں بھارت کی جغرافیائی، سیاسی اور اسٹریٹجک اہمیت”
کانفرنس کا مرکزی موضوع ہے: “ہند بحرِ ہند خطے میں بھارت کی جغرافیائی، سیاسی اور اسٹریٹجک اہمیت” افتتاحی اجلاس کا آغاز روایتی چراغ روشن کرنے اور سرسوتی وندنا سے ہوا۔ اس کے بعد مہمانانِ خصوصی کو روایتی دوپٹہ (پٹکا) اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر ڈاکٹر اندریش کمار تھے، جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی قومی عاملہ کے رکن اور راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ کے چیف سرپرست ہیں۔ اس موقع پر معروف میڈیا ماہر پروفیسر ڈاکٹر کے۔ جی۔ سریش (ڈائریکٹر، انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر) بطور خصوصی مہمان موجود رہے۔
پروگرام میں پروفیسر مظہر آصف (وائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی (رجسٹرار، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر منورادھا چودھری، ڈاکٹر رتیش کمار رائے، پروفیسر گرمیت سنگھ (سابق وائس چانسلر، پونڈیچیری یونیورسٹی)، جسبیر سنگھ، گولوک بہاری رائے، وکرم آدتیہ سنگھ، لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) اروِندر سنگھ لمبا، میجر جنرل (ڈاکٹر) سوریش بھٹاچاریہ، پروفیسر ابوذر خیری، پروفیسر راجیو نین، پروفیسر اسلم خان، پروفیسر وی۔ این۔ پانڈے، پروفیسر نوید جمال، راجیش مہاجن، پونیت نندا، مندیب کمار اگروال، چھتر سنگھ، ڈاکٹر انشل گرگ، ڈاکٹر پوجا، ماینک شیکھر سمیت ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے متعدد ممتاز دانشور، دفاعی ماہرین، محققین اور معزز شخصیات شریک ہوئیں۔
بھارت کی تہذیبی روح “وشو بندھوتو” اور “وسودھیو کٹمبکم” کے اصول پر قائم
اپنے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی روح “وشو بندھوتو” اور “وسودھیو کٹمبکم” کے اصول پر قائم ہے، جس میں پوری انسانیت کو ایک خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرہ باہمی احترام، ہمدردی اور تعاون کے جذبے کو اپنا لے تو تصادم اور تشدد خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ بھائی اور بہن کے درمیان احترام اور خیر خواہی کا رشتہ ہی عالمی امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے مکالمہ، توازن اور تعاون کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ عالمی تناؤ کے ماحول میں بھی بھارت امن، استحکام اور مساوات پر مبنی ایک متبادل عالمی نظریہ پیش کر رہا ہے۔ پائیدار عالمی امن اسی وقت ممکن ہے جب قومیں مقابلہ آرائی کے بجائے بقائے باہمی اور باہمی احترام کی پالیسی اپنائیں۔
آزادی کے بعد بھارت نے اپنی بحری طاقت اور علاقائی توازن کو مسلسل مضبوط کیا
مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر کے۔ جی۔ سریش نے ہند بحرِ ہند خطے کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ تقریباً 68 ملین مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور عالمی سمندری تجارت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کی تقریباً 80 فیصد سمندری تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم دور میں بھارت کی بحری تجارت مشرقی افریقہ، عرب دنیا اور جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی، جس نے ثقافتی رابطوں اور تہذیبی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ آزادی کے بعد بھارت نے اپنی بحری طاقت اور علاقائی توازن کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ پروفیسر منورادھا چودھری نے کہا کہ بھارت کا نقطۂ نظر ہمیشہ شمولیتی اور انسانی اقدار پر مبنی رہا ہے۔ بھارتی تاجر اور ملاح صرف تجارت نہیں کرتے تھے بلکہ زبان، ثقافت، یوگا، فلسفہ اور اخلاقی اقدار بھی ساتھ لے کر جاتے تھے۔ ہند بحرِ ہند خطے کے ساتھ بھارت کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور فکری سطح پر نہایت گہرے رہے ہیں۔
بھارتی ثقافت نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ کسی بھی تہذیب کی اصل طاقت اس کی مکالمے اور ابلاغ کی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بھارتی ثقافت نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی ہے۔ بھارت کا روحانی تصور تقسیم نہیں بلکہ وحدت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ آج کے عالمی تناظر میں ثقافتی سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی احترام ہی پائیدار امن کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے بتایا کہ HHRS کا تصور 2019 میں گہرے مطالعے اور مشاورت کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد ہمالیہ سے ہند بحرِ ہند تک تاریخی اور ثقافتی روابط کو ازسرنو زندہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ HHRS سے وابستہ 54 ممالک کی تاریخ اور ثقافت میں کئی مشترکہ پہلو پائے جاتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) اروِندر سنگھ لمبا نے کہا کہ ہند بحرِ ہند محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک مرکزیت کی علامت ہے۔ بھارت کی جغرافیائی حیثیت اسے اس خطے میں سفارتی اور دفاعی برتری فراہم کرتی ہے۔ آنے والے وقت میں بحری سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کے لحاظ سے اس خطے کی اہمیت مزید بڑھنے والی ہے، جس کے لیے مربوط سلامتی نظام اور کثیر ملکی تعاون ناگزیر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…
سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کی…
76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…
امت شاہ کے 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں…
جے پی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوئیڈا میں 28 سے 30 جنوری 2027 تک…
17 ستمبر 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ پر دروپدی مرمو اور…