چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے سلسلے میں منگل کو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے مارچ میں بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کی شرکت کے بعد بی جے پی کے ساتھ اس کے تعلقات سے متعلق سیاسی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ طویل عرصے تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والی بی جے ڈی اب اپوزیشن کے ساتھ زیادہ سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔
راہل گاندھی کے مارچ میں بی جے ڈی کی شرکت
6 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس سے نرواچن سدن تک مارچ نکالا تھا۔ پولیس نے مارچ کو راستے میں روک دیا، جس کے بعد راہل گاندھی آکاش وانی بھون کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ تقریباً 9 گھنٹے تک جاری سیاسی سرگرمی کے بعد دہلی پولیس نے راہل گاندھی کو حراست میں لے لیا۔ اس مارچ میں طویل عرصے تک اڈیشہ میں حکومت کرنے والی بی جے ڈی کے ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہوئے۔ پارٹی سربراہ نوین پٹنائک نے اپنے 2 راجیہ سبھا ارکان کو مارچ میں شرکت کے لیے بھیجا تھا۔ بی جے ڈی کی اپوزیشن کے اس احتجاج میں شرکت کو 2024 کے بعد پارٹی کی بدلتی ہوئی سیاسی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
تقریباً 3 دہائی پرانی ہے بی جے پی اور بی جے ڈی کی دوستی
بی جے ڈی اور بی جے پی کے تعلقات تقریباً 3 دہائی پرانے ہیں۔ نوین پٹنائک نے 1997 میں اپنے والد اور اڈیشہ کے قدآور لیڈر بیجو پٹنائک کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے بی جے ڈی قائم کی تھی۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد پارٹی نے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا۔
2009 میں ٹوٹا اتحاد
2009 میں سیٹوں کی تقسیم کے معاملے پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور بی جے ڈی نے بی جے پی سے اتحاد ختم کر لیا۔ اس کے بعد نوین پٹنائک نے کانگریس اور بی جے پی دونوں سے یکساں فاصلہ رکھنے کی سیاست اپنائی۔ یہی حکمت عملی طویل عرصے تک بی جے ڈی کی شناخت بنی رہی۔ تاہم ضرورت کے مطابق پارٹی مرکز کی بی جے پی حکومت کے بعض فیصلوں کی حمایت کرتی رہی۔ باضابطہ اتحاد ختم ہونے کے باوجود نوین پٹنائک اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان تعلقات میں طویل عرصے تک سیاسی قربت نظر آتی رہی۔
2024 کے انتخابات نے بدل دی اڈیشہ کی سیاست
2024 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے بی جے ڈی کی 24 سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا اور ریاست میں اپنی حکومت قائم کی۔ نوین پٹنائک کو وزیر اعلیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑی۔ لوک سبھا انتخابات میں بھی بی جے ڈی کو بڑا دھچکا لگا اور پارٹی اڈیشہ کی 21 میں سے ایک بھی نشست نہیں جیت سکی، جبکہ بی جے پی نے 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس انتخابی نتیجے کے بعد بی جے ڈی کے لیے بی جے پی محض ایک اتحادی یا سیاسی حریف نہیں رہی، بلکہ اڈیشہ میں اس کا اہم سیاسی مقابل بن گئی۔
2024 کے بعد اپوزیشن کے قریب آتی بی جے ڈی؟
2024 کے بعد بی جے ڈی نے ایسے کئی اشارے دیے جن سے اس کے سیاسی رخ میں تبدیلی نظر آئی۔ جولائی 2024 میں نیٹ کے معاملے پر پارٹی نے اپوزیشن کے ساتھ راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کیا۔ حد بندی کے معاملے پر بھی نوین پٹنائک نے جنوبی ہندوستان کی بعض علاقائی جماعتوں کے ساتھ میٹنگ میں شرکت کی۔
اس کے علاوہ بی جے ڈی نے مرکز کی بعض پالیسیوں پر براہ راست سوال اٹھانا شروع کیا۔ کان کنی سے متعلق قانون کے معاملے میں نوین پٹنائک نے الزام لگایا کہ اس سے اڈیشہ کے مفادات متاثر ہوں گے اور انہوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ یوں 2024 کے بعد بی جے ڈی کی سیاست میں تبدیلی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ جو پارٹی پہلے مرکز میں حکومت کے ساتھ ٹکراؤ سے گریز کرتی تھی، وہ اب اڈیشہ کے حقوق اور علاقائی مفادات کے نام پر بی جے پی حکومت پر سوال اٹھاتی نظر آ رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی کے سیماپوری علاقے میں بدھ کی دوپہر ایک 4 منزلہ عمارت اچانک منہدم ہونے…
SIR تنازع پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، جنتر منتر…
شوہر کے وفات کے بعد دو بچوں کی پرورش کی ذمہ داری سنبھالنے والی کویتا…
پرشانت کشور نے بے روزگاری، نوجوانوں کی نقل مکانی اور ریاست میں سیلاب کی صورتحال…
اتر پردیش حکومت نے 20 آئی پی ایس افسران کے تبادلے کیے، کئی اضلاع میں…
وزیر اعظم نریندر مودی 8 اکتوبر کو صبح تقریباً 10 بجے یشوبھومی میں انڈیا موبائل…