نئی دہلی: ’بہار کوکیلا‘ شاردہ سنہا کی برسی پر ’مودی اسٹوری‘ میں اُس آواز کو یاد کیا گیا ہے جس نے لوک سنگیت کو ایک نئی پہچان دی۔ لوک سنگیت کی تاریخ میں شاردہ سنہا وہ نام ہیں جنہوں نے روایت کو جدیدیت سے جوڑا اور عوامی ثقافت کو گھر گھر تک پہنچایا۔ متھلانچل کی مٹی سے ابھری ان کی آواز بھارت کی ثقافت اور عقیدت کی علامت بن گئی۔
’مودی اسٹوری‘ میں وزیراعظم نریندر مودی کے شاردہ سنہا کے تئیں احترام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں شاردہ سنہا کے بیٹے کا وہ بیان بھی شامل ہے جس میں انہوں نے اپنی ماں کے وزیراعظم مودی کے بارے میں خیالات بیان کیے۔
ایکس پوسٹ میں لکھا ہے، ’’وزیراعظم نریندر مودی خود کئی مواقع پر شاردہ سنہا کے تعاون کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم مودی کے مطابق، شاردہ جی نے چھٹھ مہاپرو کو عالمی پہچان دلائی ہے۔ متھلانچل کی ایک سبھا میں وزیراعظم نے انہیں پیار سے ’چھٹھی مئیّا کی بیٹی‘ کہہ کر پکارا تھا، جو ان کے لوک سیوی زندگی کی سب سے خوبصورت پہچان بن گئی۔ وزیراعظم مودی نے ان کے ایک گیت کو اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ گیت بھارتی عوامی جذبات کی روح کو چھو جاتا ہے۔‘‘
مودی اسٹوری میں بتایا گیا ہے کہ 2018 میں جب شاردہ سنہا کو پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا، تب ان کی وزیراعظم نریندر مودی سے جذباتی ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقع کو یاد کرتے ہوئے ان کے بیٹے انشومن سنہا نے بتایا، ’’وزیراعظم نے ماں سے کہا تھا، ’شاردہ جی‘ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے، امید ہے آپ ثقافت کی پرچارک بنی رہیں گی۔ یہ بات ان کے لیے ایک گہرا تحریک کا ذریعہ تھی۔‘‘
انشومن نے آگے کہا کہ ان کی ماں ہمیشہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر دیکھتی تھیں جن میں فن اور انتظام، دونوں کے تئیں احترام اور حساسیت ہے۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ملک تبھی آگے بڑھے گا جب ثقافت کو بھی برابر کا مقام دیا جائے گا۔
شاردہ سنہا کے گیتوں نے چھٹھ، ہولی، شادی بیاہ اور بھکتی کے ہر موقع کو جذبات سے بھر دیا۔ انہوں نے لوک گیتوں کو کلاسیکی عظمت اور عوامی سادگی کا حسین امتزاج بنا کر پیش کیا۔ آج بھی ان کے گیت صرف دُھن نہیں بلکہ اُس ثقافت کی دستاویز ہیں جو بھارت کو اس کی جڑوں سے جوڑتے ہیں۔ شاردہ سنہا کی زندگی بتاتی ہے کہ ایک سچا فنکار صرف سر نہیں گاتا، وہ سماج کی روح کی آواز بن جاتا ہے۔
شاردہ سنہا کی پہلی برسی پر بدھ کے روز وزیراعظم مودی نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا، ’’انہوں نے بہار کی فن و ثقافت کو لوک گیتوں کے ذریعے ایک نئی پہچان دی، جس کے لیے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مہاپرو چھٹھ سے جڑے ان کے سریلے گیت ہمیشہ عوام کے دلوں میں گونجتے رہیں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…