قومی

Shankaracharya controversy: شَنکراچاریہ تنازعہ ہوا مزید گرم، نوجوان نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرکے قبول کی ہنگامے کی ذمہ داری

شَنکراچاریہ سوامی اوی مکتیشورانند سرسوتی کے شِوِر میں پیش آئے ہنگامے کا معاملہ اب مزید گرم ہو گیا ہے۔ دراصل، جب حامیوں نے ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف تھانے میں شکایت درج کرائی، تو سچن کمار نامی ایک نوجوان نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے پورے واقعے کی ذمہ داری خود قبول کر لی۔ سچن نے دعویٰ کیا کہ شِوِر میں شَنکراچاریہ کے شاگردوں نے اس کے ساتھ دھکا مُکی کی، جس کے بعد اس نے بھی ان کے خلاف تحریری شکایت دی ہے۔ سچن کا یہ بیان وائرل ہوتے ہی تنازعے نے نیا رخ اختیار کر لیا۔

شَنکراچاریہ کا ردِعمل

سچن کے ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے شَنکراچاریہ نے کہا کہ اب جب ہنگامہ کرنے والے نے خود اعتراف کر لیا ہے تو پولیس کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ یہ معاملہ اب چھپایا نہیں جا سکتا اور قصورواروں کے خلاف سخت اقدامات ہونے چاہئیں۔

پورا معاملہ کیا ہے؟

ہفتہ کی شام شَنکراچاریہ کے شِوِر میں اچانک کچھ لوگ پہنچے اور “بلڈوزر بابا” کے نعرے لگانے لگے۔ وہاں موجود حامیوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا جا رہا ہے کہ شِوِر میں داخلے کے خلاف جھڑپ ہوئی۔ بعد ازاں حامیوں نے ہنگامہ کرنے والوں کو باہر نکال دیا۔ اس پورے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی اور موضوعِ بحث بن گئی۔

اپوزیشن لیڈر کی حمایت

مونی اماوسیہ کے دن سنگم اسنان کے لیے پالکی پر جانے سے روکے جانے کے بعد سے شَنکراچاریہ مسلسل خبروں میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی اور بیانات وائرل ہو رہے ہیں۔ ریاست کے سابق وزیرِ اعلیٰ اکھلیش یادو سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے ان کے حق میں بیانات دیے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈر ان سے ملاقات کے لیے بھی پہنچے ہیں۔

ڈپٹی سی ایم کا موقف

حال ہی میں ریاست کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مختلف  بیان دیا تو سوالات کھڑے  ہو گئے  تھے کہ آیا وہ شَنکراچاریہ سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔ اتوار کو انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ شِوِر نہیں جائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے شَنکراچاریہ سے اپیل کی کہ وہ سنگم اسنان کر کے اس تنازعے کو ختم کریں۔

تنازعے کا اثر

ہفتہ کو ہوئے ہنگامے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پورے ملک میں وائرل ہو چکی ہے۔ سچن کمار کے اعترافی بیان نے اس تنازعے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں پولیس کی کارروائی پر مرکوز ہیں کہ آئندہ اس معاملے میں کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

31 minutes ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

1 hour ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

1 hour ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

2 hours ago

Trump 100 Percent Tariff: امریکی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بیچ بھارت کا دوٹوک پیغام، توانائی پالیسی پر نہیں بدلے گا مؤقف

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…

2 hours ago